سرحد حکومت کے آئی بی پر الزامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے کہا ہے کہ منگل کو ایک وفاقی حساس ادارے آئی بی کے اہلکار کے وزیر اعلٰی سیکرٹیریٹ میں بم نصب کرنے کے واقعے کے بعد یہ شکوک اب یقین میں بدل رہے ہیں کہ اس سے پہلے پشاور میں جو تخریبی کارروائیاں ہوچکی ہیں ان میں بھی یہی ادارے ملوث ہوسکتے ہیں۔ بدھ کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان آصف اقبال داؤدزئی نے کہا کہ منگل کو جس طرح وفاقی حساس ادارے آئی بی کے ایک اہلکار کو سی ایم سیکرٹریٹ کے ساتھ دھماکہ خیز مواد نصب کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اور بعد میں اسی ادارے کے ایک دوسرے اعلی افسر کی طرف سے اپنے اہلکار کو پولیس سے چھڑانے کے واقعے کے بعد یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ وفاقی حکومت اپنے ہی یونٹ کے خلاف سازشوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو کے دفتر کے ساتھ دن دہاڑے دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ ایم ایم اے کی حکومت کو عوام میں پزیرائی حاصل ہو۔ ایک سوال کے جواب میں آصف اقبال نے الزام لگایا کہ کل کے واقعے کے بعد صوبائی حکومت کے شکوک اب یقین میں بدل رہے ہیں کہ اس سے پہلے پشاور میں بم پھٹنے کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں بھی ان ہی حساس اداروں کے اہلکار ملوث ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ملک میں جمہوری اداروں اور پریس کی آزادی کے دعوے تو کررہی ہے لیکن حالیہ واقعہ میں آئی بی نے مختلف ٹی وی چینلز اور اخبارات کے دفاتر میں فون کرکے اس واقعے کی خبر کو دباؤ ڈال رکوایا ۔ ادھر صوبہ سرحد کے وزیراعلی اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ منگل کو وزیراعلی سیکرٹریٹ کے قریب پکڑا جانے والا دھماکہ خیز مواد غیر ملکی نہیں بلکہ واہ فیکٹری کا بنا ہوا ہے۔ بدھ کو سرحد اسمبلی کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی نے الزام لگایا کہ واقعے میں آئی بی کے جائینٹ ڈائریکٹر براہ راست ملوث ہیں لہذا انہیں ہر صورت میں دوسرے اہلکاروں سمیت گرفتار کیا جائے گا۔ واضع رہے کہ منگل کو وزیراعلیٰ سرحد اکرم درانی نے اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو کا ایک اہلکار پشاور میں چیف منسٹر کے دفتر کی کار پارکنگ میں دھماکہ خیز مواد رکھتے ہوئے پکڑا گیا ہے تاہم بعد میں ملزم کو آئی بی کے ایک اعلی اہلکار نے پولیس سے چھڑا لیا تھا جس کے بعد سرحد حکومت نے دونوں اہلکاروں کے خلاف شرقی تھانے میں مقدمات درج کرلیے تھے۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران پشاور کے مختلف علاقوں میں سات بم دھماکے ہوئے ہیں جس میں دس سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ ان میں پولیس کے مطابق ایک خودکش حملہ تھا جو پشاور کے علاقے پشتخرہ میں ہوا تھا۔ | اسی بارے میں گورنر سرحد پر راکٹ حملہ07 November, 2006 | پاکستان پشاور ’خودکش‘ حملہ، ایک ہلاک17 November, 2006 | پاکستان وزیر اعلیٰ سرحد کا آئی بی پر الزام05 December, 2006 | پاکستان آئی بی کے خلاف ایف آئی آر درج05 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||