BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 December, 2006, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیر اعلیٰ سرحد کا آئی بی پر الزام

اکرم درانی نے یہ الزام ایک پریس کانفرنس میں لگایا ہے
پاکستان کے صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ اکرم درانی نے بتایا ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کا ایک اہلکار پشاور میں چیف منسٹر کے دفتر کی کار پارکنگ میں دھماکہ خیز مواد رکھتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔

اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ جب پولیس نے متعلقہ اہلکار کو دھماکہ خیز مواد سمیت گرفتار کیا تو پتہ چلا کہ ان کا نام محمد طفیل ولد محمد اسماعیل ہے اور وہ انٹیلی جنس بیورو یعنی ’ آئی بی‘ کا ملازم ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق جب پولیس نے اُسے گرفتار کرکے مواد سمیت تھانہ شرقی کے حوالے کیا تو کچھ دیر بعد انٹیلی جنس بیورو کے جوائنٹ ڈائریکٹر ظفراللہ خان تھانے پہنچے اور تھانیدار کو مبینہ طور پر دھماکہ کرنے والے اہلکار اور دھماکہ خیز مواد اپنے ساتھ لے گئے۔

وزیر اعلی ہاوس پر مبینہ طور پر دھماکے کی کوشش
 اکرم درانی نے کہا کہ جو ادارہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے بنایا ہے وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے اور یہ ادارہ براہ راست وزیراعظم کے ماتحت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم اب متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کریں گے یا انہیں تحفظ فراہم کریں گے۔
وزیر اعلی سرحد اکرم درانی

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جماعت ’جمیعت علمائے اسلام کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے ہیں اور انہیں اجلاس میں اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے پشاور کے پولیس حکام کو انٹیلی جنس بیورو کے دفتر پر چھاپہ مارکر جوائنٹ ڈائریکٹر اور اہلکار کو گرفتار کرکے مواد برآمد کرکے ان پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جب پولیس حکام نے چھاپہ مارا تو وہاں سے انٹیلی جنس بیورو کے متعلقہ اہلکار غائب ہوچکے تھے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انٹیلی جنس بیورو والے اب مواد تبدیل کرکے نئی کہانی گھڑ سکتے ہیں۔

اکرم درانی نے کہا کہ جو ادارہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے بنایا ہے وہ دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے اور یہ ادارہ براہ راست وزیراعظم کے ماتحت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعظم اب متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کریں گے یا انہیں تحفظ فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کیا ہم یہ سمجھیں کہ اب تک جو بم دھماکے ہورہے تھے کیا اس میں بھی انٹیلی جنس حکام ملوث ہیں؟

انہوں نے کہا کہ دو روز قبل جب وہ پشاور سے بنوں جارہے تھے تو ایک ٹیکسی میں خود کش بمبار بھی پشاور سے روانہ ہوا اور اس نے بنوں کے قریب ایک پولیس کی گاڑی پر حملہ کردیا جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’کیا میں سمجھوں کہ وہ حملہ بھی انٹیلی جنس بیورو نے کیا تھا؟۔‘

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبہ سرحد کے گورنر کا انہیں فون آیا تھا لیکن بات نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق گورنر سے مل کر انہوں نے وزیرستان میں امن کے لیے کوشش کی ہے اور صوبے کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ان سے لڑنا چاہتا ہے تو وہ لڑیں گے اور کوئی صلح کرنا چاہتے ہیں تو وہ صلح بھی کریں گے لیکن کسی سے ڈریں گے نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ’ یہ میرے گھر پر حملہ ہوا ہے اور ایک منتخب وزیراعلیٰ کی توہین ہے اور میں ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے بنا خاموش نہیں رہوں گا۔‘

صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ جب منتخب وزیراعلیٰ کا گھر محفوظ نہیں ہے تو اس ملک کا کیا بنے گا؟۔ ان کے مطابق وہ متعلقہ انٹیلی جنس بیورو کے اہلکار کو گرفتار کرنے والے پولیس اہلکاروں کو پچاس پچاس ہزار روپے انعام اور ترقی بھی دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار کو بم رکھنے کے جرم پکڑنے اور ڈرامائی انداز میں چھڑانے کا یہ اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے۔

اسی بارے میں
پشاور میں دھماکہ ،ایک ہلاک
01 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد