آئی بی کے خلاف ایف آئی آر درج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد حکومت نے وزیراعلیٰ سیکرٹیریٹ کی بیرونی دیوار کے ساتھ دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات میں انٹیلجنس بیورو کے ایک اعلی افسر سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں۔ منگل کی شام پشاور میں صوبائی وزیراطلاعات آصف اقبال داؤدزئی کی جانب سے ذرائع ابلاغ کوجاری کیئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ سرحد اکرم خان درانی کی ہدایت پر دھماکہ خیز مواد رکھنے والے آئی بی کے مبینہ اہلکار طفیل اور جائنٹ ڈائریکٹر آئی بی ظفر اللہ خان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملزم کو دھماکہ خیز مواد سمیت تھانہ شرقی سے لے جانے اور بعد ازاں ملزم کو پولیس کے حوالے نہ کرنے کے ضمن میں دو ایف آئی آر تھانہ شرقی میں درج کر لی گئی ہیں۔ بیان میں اس امر پرافسوس کااظہار کیاگیا ہے کہ صوبہ سرحد کے خلاف وفاقی سطح پر سازشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کا واحد مقصد صوبے کے امن وامان کی صورت حال خراب کرنا تھا۔ واضع رہے کہ منگل کو وزیراعلیٰ سرحد اکرم درانی نے اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو کا ایک اہلکار پشاور میں چیف منسٹر کے دفتر کی کار پارکنگ میں دھماکہ خیز مواد رکھتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔ پاکستان میں کسی انٹیلی جنس ایجنسی کے اہلکار کو بم رکھنے کے جرم میں پکڑنے اور ڈرامائی انداز میں چھڑانے کا یہ اپنی طرز کا پہلا واقعہ ہے۔ | اسی بارے میں ’آئی بی پر دھماکے کی کوشش کا الزام‘05 December, 2006 | پاکستان ’ایجنسیوں نےقتل کیا‘05 December, 2006 | پاکستان ’ہمارے کارکن غائب ہیں‘05 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||