فوج آخری آپشن ہے: گورنر سرحد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے گورنرعلی محمد جان اورکزئی نے کہا ہے کہ سوات میں امن بحال کرنے کے لیے فوج کا استعمال آخری آپشن کے طور پر کیا جائے گا۔ ’ہم فوج استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، ہم مسئلے کو بات چیت کےذریعے حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں‘۔ جمعہ کے روز پشاور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صوبائی گورنر نے کہا کہ نگراں صوبائی حکومت جرگہ کے ذریعے حالات کو درست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بعض علاقوں میں چیک پوسٹیں بنائی ہیں تا کہ غلط عناصر کی حرکت کو روکا جا سکے۔ فوجی آپریشن کے امکانات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج استعمال بھی کی جاسکتی ہے اور وہاں فوج موجود بھی ہے ۔ البتہ فی الحال کوشش ہے کہ نوبت فوج کے استعمال تک نہ پہنچے کیونکہ اس طرح عام شہریوں کو نقصان کا اندیشہ ہے ۔ متاثرہ علاقے میں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی موجودگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اُن کی موجودگی کے حوالے سے چند اطلاعات ضرور ہیں ۔’لیکن ان اطلاعات کی تصدیق کی ضرورت ہے‘۔ | اسی بارے میں طاقت کی بجائے مذاکرات کا مطالبہ 01 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی اہلکاروں کا اغوا اور رہائی02 November, 2007 | پاکستان سوات: ایف ایم پر نظریات کی جنگ31 October, 2007 | پاکستان ’سوات کو اب میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا‘31 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||