BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 August, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گورنر مغویوں کی رہائی کیلیے پرامید

علی جان اورکزئی جرگہ ممبران کے ہمراہ
جمعہ کو جرگہ دوبارہ مذاکرات کرنے کے لیےجائے گا
صوبہ سرحد کےگورنر علی جان اورکزئی نے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے اغواء کیے جانے والے سکیورٹی فورسز کے پندرہ اہلکاروں کی بازیابی کی کوششوں میں کافی پیشرفت ہوئی ہےاور امید ہے کہ ان اہلکاروں کو بہت جلد رہا کر دیا جائے گا۔

گورنر سرحد نے یہ بات قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں تقریباً تیس قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگے سے خطاب کے دوران کہی۔

گورنر علی جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ قبائلی جرگے نےگزشتہ دو روز سے سکیورٹی فورسز کے اغواء شدہ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں اور جمعہ کو جرگہ دوبارہ مذاکرات کرنے کے لیےجائے گا۔

گورنر نے اپنے خطاب کے دوران اغواء ہونے والے اہلکاروں میں سے کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار لائق حسین کو قتل کرنے کی شدید مذمت کی اور اسے ایک غیر اسلامی فعل قرار دیا تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ باقی پندرہ افراد کو بہت جلد زندہ بازیاب کرا لیا جائے گا۔

واضع رہے کہ سکیورٹی فورسز کے سولہ اہلکار آٹھ روز قبل اس وقت لاپتہ ہوئے تھےجب وہ جنوبی وزیرستان کے سرہ روغہ جانے والے ایک قافلے سے الگ ہوئے تھے۔ مغویان میں سے لائق حسین نامی ایک اہلکار کا سرگزشتہ منگل کو جنڈولہ کے قریب ایک میدان سے ملا تھا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق سر کے ساتھ ایک خط بھی ملا تھا جس میں گزشتہ دنوں مختلف فوجی کارروائیوں میں ڈی آئی خان اور ٹانک سے گرفتار ہونے والے دس افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد