BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 August, 2007, 13:16 GMT 18:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ سکاؤٹس، کوئی سراغ نہیں
لاپتہ ہونے والے افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا
پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان سکاؤٹس کے ان سولہ اہلکاروں کی تلاش کر رہی ہے جو افغان سرحد کے قریب جمعرات کو لاپتہ ہو گئے تھے۔

یہ واقعہ جنوبی وزیرستان میں پیش آیا تھا اور بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ لاپتہ ہو جانے والے سکاؤٹس کے بارے میں خیال یہی ہے کہ انہیں شدت پسندوں نے اغواء کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان ایجنسی انتظامیہ نے بھی سکاؤٹس کی بازیابی کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں اور اغوا کاروں سے رابطہ کے لیے علاقے کے عمائدین کا تعاون حاصل کیا گیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ جنوبی وزیرستان سکاؤٹس اس وقت لاپتہ ہوئے جب جو اس قافلے سے الگ ہوئے جو جنوبی وزیرستان میں واقع سرا روغہ قلعے کو جا رہا تھا۔ لاپتہ ہونے والے افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا۔

اب ہم سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کا جواب زیادہ طاقت سے دے رہے ہیں۔گزشتہ چند ماہ میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف شر پسندوں نے کارروائی کی کئی کوششیں کیں اور ہم نے صبر سے کام لیا لیکن اب ایسا نہیں۔
میجر جنرل وحید ارشد

فوج کے ترجمان جنرل ارشد نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وزیرستان میں کوئی پہلے سے طے شدہ کارروائی ہو رہی ہے۔ البتہ ان کا کہنا تھا ’اب ہم سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والے حملوں کا جواب زیادہ طاقت سے دے رہے ہیں۔گزشتہ چند ماہ میں سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف شر پسندوں نے کارروائی کی کئی کوششیں کیں اور ہم نے صبر سے کام لیا لیکن اب ایسا نہیں‘۔

پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ فوجی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں لال مسجد میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد ہوا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرِستان شدت پسندوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔ تاہم پاکستان اس سے انکار کرتا ہے۔ادھرگزشتہ رات بھی شمالی وزیرستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی پوزیشنوں پر ہلکے ہتھیاروں اور راکٹوں سے حملے کیے گئے جن میں پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ فوج نے دس شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوٰی کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد