BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 10:18 GMT 15:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لکی مروت میں دھماکہ، چار زخمی

 صوبہ سرحد
بنوں میں گزشتہ ماہ بھی بم دھماکہ ہوا تھا
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع لکی مروت میں ایک بم دھماکے میں ایک پولیس کانسٹیبل سمیت چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ دھماکہ پولیس تھانہ سے متصل ایک دکان میں ہوا ہے۔ زخمیوں کو سرائے نورنگ کے ایک سول ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔

لکی مروت پولیس کے ایک سینئر افسر عمرفراز خٹک نے بی بی سی کو بتایا کہ کہ لکی مروت سے کوئی سات کلومیٹر دور سرائے نورنگ میں جمعہ کی صبح نو بجکر تیس منٹ پر پولیس تھانہ کے قریب بم کا ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجہ میں ایک پولیس کا نسٹیبل سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد قریبی دکانوں کو بند کروادیا۔

انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ کے قریب چاروں اطراف میں دور دور تک دکانوں کو بند کروادیا۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ اگر لوگ دھماکے کی جگہ اکھٹے ہوجائیں تو دوسرے دھماکے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے البتہ پولیس نے تلاشی کا عمل شروع کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس پہلے بنوں شہر پر جنوب کی جانب سے دو رکٹ داغے گئے تھے جو چوک بازار میں شہری آبادی پر گرے تھے اور جب لوگ دھماکے کی جگہ جمع ہوگئے تھے تو اس دوران ایک اور راکٹ آیا، جس کے نتیجہ میں نو افراد ہلاک اور اکتالیس زخمی ہوگئے تھے۔

قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تیس جولائی کو فوج کی ایک فضائی کارروائی میں اٹھارہ افراد ہلاک اور آٹھ لاپتہ ہوگئے تھے۔ اس کارروائی میں تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن پر مجموعی طور پر تیس افراد سوار تھے۔

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاع کے مطابق میرانشاہ سے پانچ کلومیٹر دور جنوب کی جانب بانڈہ نامی چیک پوسٹ پر کی جانی والی اس کارروائی میں حکومت نے اٹھارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔اکتیس جولائی کو حکومت نے لاشیں بھی ان کے ورثا کے حوالے کردی تھی جن کو تحصیل میرعلی میں دفنا دیا گیا تھا۔لیکن اب وہاں کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بانڈہ چیک پوسٹ پر کی جانے والی اس کارروائی میں تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن پر تیس افراد سوار تھے۔

تاہم جمعرات کو تین سو قبائلی عمائدین نے مولانا عبدالرحمن کی قیادت میں مزکورہ علاقہ کا دورہ کیا تو وہاں سے کوئی لاش برآمد نہ ہوسکی۔

اس کے علاہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات میرانشاہ کے قریب بھاری ہیتھیار سے حملہ ہوا ہے جس کسی جانی نقصان کی اطلاع ملی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد