BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 07:29 GMT 12:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی قافلہ، بارودی سرنگ سے حملہ

فوج کی جوابی کارروائی میں ایک شخص ہلاک ہوا
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں ٹوچی سکاؤٹس کا ایک اہلکار زخمی ہوگیا ہے جبکہ اس واقعے کے بعد فوج کی جوابی کارروائی میں ایک شخص ہلاک اور چار شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیٹکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح آٹھ بجے ایک فوجی قافلہ میرانشاہ سے بنوں جا رہا تھا کہ تحصیل میرعلی کے علاقے پتسی اڈہ میں ایک گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجہ میں ٹوچی سکاؤٹس کا ایک اہلکار عنایت زخمی ہوگیا جبکہ گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔

حکام کے مطابق اس کے بعد فوج نے جوابی کارروائی شروع کی جس میں زمینی کارروائی کے علاوہ گن شپ ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے گئے۔ اس فائرنگ سے سخی نامی ایک مقامی قبائلی ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پتسی اڈہ میں گن شپ ہیلی کاپٹر کی فائرنگ سے علاقہ ایسوڑی میں چار مکانات اور بارہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق فائرنگ کے بعد میرعلی بازار مکمل طور پر بند ہوگیا اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔

انتظامیہ کے مطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات نامعلوم افراد نے میرانشاہ کے قریب گورا قبرستان میں سکیورٹی فورسز کی ایک چوکی پر بھی حملہ کیا جس میں سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے جبکہ جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے۔ تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کا نام عبدالقدر خان ہے، جو میرانشاہ نادرا آفس میں ملازم تھا اور وہ اپنےگھر کے سامنے گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔

ادھر جنوبی وزیرستان سے ساؤتھ وزیرستان سکاؤٹس فورس کے اغواء ہونے والے سولہ اہلکاروں کو تیسرے روز بھی بازیاب نہیں کروایا جا سکا اور سینیٹر صالح شاہ کی قیادت میں محسود قبائل کا مذاکراتی جرگہ بھی ناکام نظر آتا ہے۔ اس سے پندرہ روز قبل بنوں سے اغواء ہونے والے ایف سی کے چار اہلکار بھی تاحال لاپتہ ہیں۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان اور حکومت کے مابین امن معاہدہ ٹوٹنے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔مقامی طالبان کے ترجمان عبدالحئی غازی کا کہنا ہے کہ عام لوگوں پر فائرنگ سے حکومت کے خلاف قبائل کے غصہ میں اضافہ ہوا ہے۔

میدانِ جنگ وزیرستان
حکومت کے لیے رٹ قائم کرنا مشکل ہوگا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد