BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 September, 2007, 07:56 GMT 12:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد: بم حملوں میں 385 ہلاک

پشاور دھماکہ (فائل فوٹو)
صوبہ سرحد میں گزشتہ دو برسوں کے دوران بم دھماکوں، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے کل بانوے واقعات ہوئے ہیں جن میں تین سو پچاسی لوگ ہلاک ا ور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ رپورٹ پشاور میں سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیش کی گئی جسکی صدارت کمیٹی کے چیئرمین سنیٹر طلحہ محمود نے کی۔

اجلاس میں صوبائی ہوم سیکرٹری بادشاہ گل وزیر، سپیشل سیکرٹری ہوم ٹیپو محبت خان اور سرحد پولیس کے سربراہ محمد شریف ورک نے بھی شرکت کی۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے سپیشل سیکریٹری ہوم ٹیپو محبت خان نے کہا کہ صوبہ سرحد کے اضلاع سوات، دیر، چترال اور جنوبی اضلاع قبائلی علاقوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے امن وامان کے مسائل میں گرے ہوئے ہیں اور سرحد میں بم دھماکے، خودکش حملے اور سکیورٹی فورسز پر حملے ایک معمول بن چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سال دو ہزار چھ میں سرحد میں بم دھماکوں، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کے گیارہ واقعات ہوئے ہیں جن میں ایک سو بائیس 122 افراد ہلاک اور چار سو تینتیس 433 زخمی ہوئے جبکہ سال دو ہزار سات میں اس قسم کے اکیاسی 81 واقعات ہوئے جن میں دو سو تریسٹھ 263 افراد ہلاک اور پانچ سو نوے 590 زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سال دو ہزار سات کے دوران سترہ سی ڈیز کی دوکانوں، چارسکولوں اور چار حجاموں کی دوکانوں پر مختلف حملے ہوئے جبکہ اس دوران ان کو کوئی پچاس کے قریب دھمکی آمیز خطوط بھی ملے۔

ٹیپو محبت خان نے کہا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعہ کے نتیجے میں افغانستان پر حملے کی وجہ سے بڑی تعداد میں افغان مہاجرین پاکستان آئے جبکہ مقامی طالبان کی وجہ سے بھی مسائل پیدا ہوئے جو اپنے طورپر اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں۔

کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے سرحد پولیس کے سربراہ محمد شریف ورک نے کہا کہ صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں کوئی تین سو کے قریب جرائم پیشہ گینگ سرگرم عمل ہیں جو طالبان کے روپ میں اغواء ، ڈکیتی اور سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان جرائم پیشہ گروہوں کو بیرونی ذرائع سے فنڈنگ ہوتی ہیں جبکہ ان کے پاس بھاری اور خودکار ہتھیار بھی ہیں۔

پولیس سربراہ نے تسلیم کیا کہ سوات اور جنوبی اضلاع میں امن وامان کی صورتحال خراب ہے تاہم حالات سے نمٹنے کےلئے ایک جامع ایکشن پلان تیار کر لیا گیا ہے جس کے ذریعے سے ان واقعات کو روکنے میں مدد ملی گی۔

اسی بارے میں
36 خودکش حملے، 315 سے زائدہلاک
04 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد