تیسں طالبان کی رہائی متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے مقامی طالبان اور حکومت کے درمیان جاری حفیہ مذاکرات کے نتیجے میں بیت اللہ گروپ کے تیس کےقریب جنگجوؤں کی رہائی اگلے چوبیس گھنٹوں تک متوقع ہے۔ جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو بیت اللہ گروپ کےمقامی طالبان کے تیس جنگجوؤں کو ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل سے ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے وانا زیڑی نور فوجی کالونی منتقل کردیاگیا۔ ذرائع کے مطابق اس کے بعد ان کو دوبارہ وانا سے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک لے جائے گیا۔ جہاں محسود قبائل کا جرگہ آسانی کے ساتھ پہنچ سکتا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ رہا کیے جانے والوں میں کوئی غیر ملکی شامل نہیں اور تمام کے تمام پاکستانی ہیں۔ سرکاری اہلکار نے مزید بتایا کہ بیت اللہ گروپ کی طرف سے کچھ سرکاری اہلکاروں کی رہائی متوقع ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس میں پاکستانی سفیر عزیزالدین شامل ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات میں دو قبائلی سردار اکرام الدین اور امیر محمد شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب مذاکرات کے بعد محسود کے علاقے میں تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی۔ یادرہے کہ موجودہ حکومت کےساتھ بیت اللہ محسودکے ترجمان مولوی عمرنے مذاکرات ختم کرنے کااعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک جنوبی وزیرستان سوات اور درہ ادم خیل سے فوج کو نکالا جائے تب تک ان کے مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔اس کے بعد حکومت نے حفیہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ | اسی بارے میں وزیرستان: طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی29 April, 2008 | پاکستان ’اصل جہاد تو افغانستان میں ہے‘01 May, 2008 | پاکستان ’ایف سی کے اہلکار اغواء اور رہائی‘ 08 May, 2008 | پاکستان جرگہ: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی 09 May, 2008 | پاکستان سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||