BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 May, 2008, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘

ملا فضل اللہ
طالبان اپنی ہی سر زمین پر امن چاہتے ہیں: ملا فضل اللہ کے ترجمان
صوبۂ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں چند دنوں سے بڑھتے ہوئے تشدد کے بعد صوبائی حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں فریقین نے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

حکومتی امن کمیٹی کے رکن اور صوبائی وزیر جنگلات واجد علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کو ضلع دِیر کے علاقے چکدرہ میں حکومتی امن کمیٹی اور مولانا فضل اللہ کے سات نمائندوں کے درمیان مذاکرات ہوئے جس میں بقول ان کے فریقین نے سوات میں ’عارضی جنگ بندی‘ کرنے پر اتفاق کر لیا۔

ان کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب سکیورٹی فورسز سوات میں کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گی جبکہ طالبان نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ سکیورٹی فورسز، سکولوں، سرکاری اور نجی املاک کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فریقین کے درمیان معاملات کے مستقل حل کے لیے بہت جلد مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مثبت نتائج بر آمد ہونگے۔

اس سوال کے جواب میں کہ یہ کیسی جنگ بندی ہے کہ جمعہ کی ہی دوپہر کو سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی ہے تو واجد علی خان کا کہنا تھا ’یہ تمام واقعات مذاکرات کے انعقاد سے قبل ہی ہوئے تھے لہٰذا آج کے بعد فریقین جنگ بندی کے معاہدے کے پابند ہونگے۔‘

 جنگ بندی کے بعد اب سکیورٹی فورسز سوات میں کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کرے گی جبکہ طالبان نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ سکیورٹی فورسز، اسکولوں، سرکاری اور نجی املاک کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

مولانا فضل اللہ کے ترجمان مسلم خان نے جو مذاکراتی عمل کا حصہ تھے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے جنگ بندی کی تصدیق کی اور کہا کہ طالبان اپنی ہی سر زمین پر امن چاہتے ہیں۔

مذاکرات میں حکومتی امن کمیٹی کے سربراہ صوبائی سنیئر وزیر بشیر احمد بلور، اے این پی کے ترجمان زاہد خان اور اعلٰی حکومتی اہلکاروں نے حصہ لیا۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط صوبائی حکومت نے سوات کے مسئلے کو مذاکرات کےذریعے حل کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

کمیٹی نے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کے ساتھ مذاکرات کر کے تنظیم کے اسیر رہنماء مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا تھا جبکہ مولانا فضل اللہ کے ساتھ حالیہ جنگ بندی کو اس سلسلے میں سب سے اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
سوات، سکیورٹی میں اضافہ
11 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد