سوات میں دو پولیس والوں کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک سرکاری بینک پر تعینات دو پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی صبح اس وقت پیش آیا جب تحصیل مٹہ میں واقع ایک سرکاری بینک پر تعینات دو پولیس اہلکار اپنے معمول کی ڈیوٹی پر تھے کہ بعض نامعلوم مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں دونوں اہلکاروں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا جبکہ واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے شدید ہوائی فائرنگ کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد تحصیل مٹہ کا بازار مکمل طورو پر بند ہوگیا ہے اور علاقے میں کرفیو جیسا سماں ہے۔ پیر کو بھی تحصیل مٹہ کے علاقے لابٹ میں نامعلوم مسلح افرادنے ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان پے درپے واقعات کے بعد علاقے میں ایک بار بھی خوف و ہراس میں اضافہ ہوا ہے۔ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد صوبے میں قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد سوات میں امن و امان کے قیام کے لیے وہاں پر ایک طرف مبینہ طالبان کے رہنماء مولانا فضل اللہ کیساتھ بات چیت شروع کی گئی تھی جبکہ دوسری طرف حکومت نے کالعدم نفاذ شریعت محمدی کےرہنما صوفی محمد کو رہا کردیا تھا۔ تاہم تحریک طالبان اور حکومت کے درمیان خفیہ طور پر ہونے والے مذاکرات کے مبینہ خاتمے کے بعد صوبہ کے جنوبی اضلاع کی طرح ضلع سوات میں بھی دوبارہ سے حملوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ |
اسی بارے میں حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||