BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 May, 2008, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: لڑکیوں کا سکول نذرِ آتش

سوات میں فوجی آپریشن
سوات میں فوجی آپریشن کے دوران کئی شدت کو ہلاک کیا گیا
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک سکول کو نذر آتش کیا ہے جس سے سکول کی عمارت مکمل طورپر جل کر خاکستر ہوگئی ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی رات چار باغ کے علاقے میں پیش آیا۔

تھانہ خوازہ خیلہ کے ایس ایچ او یوسف علی نے بی بی سی کو بتایا کہ رات کی تاریکی میں بیس کے قریب مسلح افراد گورنمنٹ گرلز سکول چار باغ میں داخل ہوئے اور چوکیدار کو رسیوں سے باندھ کر سکول کی عمارت کو آگ لگائی۔

انہوں نے کہا کہ آگ سے سکول کے ایک حصے میں قائم نو کمرے اور برآمدہ مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگیا ہے۔

پولیس اہلکار کے مطابق مسلح افراد نے سکول کے دوسرے حصے میں تین بم بھی نصب کئے تھے تاہم بم ڈسپوژل سکواڈ کے اہلکاروں کی بروقت کاروائی کی وجہ سے بموں کو ناکارہ بنا دیا گیا۔ واقعہ میں کسی جانی نقصانات کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے مسلح افراد فوجی وردیوں میں ملبوس تھے تاہم سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس نے سکول کے قریب چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیکر واقعہ کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت کا ایک حصہ لکڑی سے بنا ہوا تھا جو آگ کی وجہ سے راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سوات میں اس سے پہلے بھی متعدد بار لڑکیوں کے سکولوں اور سی ڈیز سنٹروں کو بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔ مقامی انتظامیہ ان وارداتوں کی ذمہ داری مقامی عسکریت پسندوں پر عائد کرتی رہی ہے۔

ادھر صوبہ سرحد کے ایک دوسرے شہر چارسدہ میں پہاڑ کی ملکیت کے تنازعے پر دو گروپوں کے مابین فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

چارسدہ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ قیمتی پھتر کرومائیٹ کے پہاڑ پر لڑائی مہمند ایجنسی کے گل شہزاد گروپ اور ضلع چارسدہ کے سید افضل گروپ کے درمیان بہرام ڈھیری کے مقام پر اس وقت شروع ہوئی جب فریقین کے مابین تین دن سے جاری مزاکرات گزشتہ روز ناکام ہوگئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دو گروہوں نے ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا آزادنہ استعمال کیا ہے جس میں گلاب نامی ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے لڑائی روکنے کےلئے پولیس اور ایف سی کے دستوں کو بڑی تعداد میں پہاڑی علاقے میں تعینات کردیا ہے تاہم اس کے باوجود فریقین کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے پہلے بھی ان دو گروہوں کے مابین جھڑپ ہوئی تھی تاہم بعد میں معاملہ جرگہ کے ذریعے سے حل کرایا گیا تھا۔

اسی بارے میں
سوات: مٹہ کے نائب ناظم قتل
25 January, 2008 | پاکستان
سوات: فائرنگ سے عورت ہلاک
16 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد