سرحد: حکومتی جرگہ کی تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی حکومت نے شورش زدہ ضلع سوات میں امن و امان کا مسئلہ حل کرانےاور فریقین سے امن بات چیت کےلیے صوبائی کابینہ کے اراکین پر مشتمل ایک جرگہ تشکیل دیا ہے۔جرگہ میں دو صوبائی سینئر وزراء اور سوات سے منتخب اراکین اسمبلی شامل ہوں گے۔ اس بات کا فیصلہ منگل کو پشاور میں صوبائی کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیاگیا جس کی صدارت وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے کی۔ وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں صوبہ میں امن وامان کے مسئلے پر تفصیلی بات چیت کی گئی اور خصوصاً سوات کے حوالے سے دو سینئر وزراء رحیم داد خان اور بشیر احمد بلور کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سوات سے تعلق رکھنے والے وزراء اور منتخب اراکین اسمبلی بھی شامل ہوں گے۔ جرگہ کے ایک رکن اور سنئیر صوبائی وزیر رحیم داد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ سوات میں بہت جلد مذاکرات کا عمل شروع کرنا چاہتا ہے تاکہ وہاں امن وامان کے مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ’سوات میں مقامی طالبان کے شریعت کے نفاذ سے متعلق جو بھی مطالبات اور ضروریات ہوں گے ان پر بھی غورکیا جائےگا۔‘ ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر نے سرحد حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شدت پسند کمانڈر نے کہا کہ علاقے کے منتخب نمائندوں کے توسط سے صوبائی حکومت میں شامل بعض اعلیٰ اہلکاروں نے سوات میں طالبان قیادت سے دو تین بار رابطے کئے ہیں تاہم اس سلسلے میں تاحال عسکریت پسندوں اور حکومت کے مابین باضابطہ بات چیت کا عمل شروع نہیں ہوا ہے۔ سرحد حکومت نے جرگے کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اندر باہمی مشاورت سے سوات کے مشران، منتخب نمائندوں اور علماء کرام پر مشتمل جرگہ تشکیل دیں جو مسئلے کے حل کےلیے فریقین کے ساتھ بات چیت کا عمل آگے بڑھائے گا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزراء کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں انتخابات کے بعد نگران حکومت میں کی جانے والی غیر قانونی تقرریوں اور تبادلوں پر مشتمل تفصیلی رپورٹ تیار کریں تاکہ انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔ کابینہ نےصوبے میں آٹے کی قلت اور مہنگائی کے سدباب کےلیے عملی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں پنجاب اور وفاقی حکومتوں کی حمایت اور مدد حاصل کرنے پر بھی اتفاق کیاگیا۔ کابینہ کو بتایاگیا کہ صوبائی حکومت کی سطح پر پنجاب حکومت سے رابطے کےلیے ٹیم بھجوائی گئی ہے جو پنجاب سے سرحد کےلیے آٹے کی ترسیل میں حائل روکاٹیں دور کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کریں گی۔ | اسی بارے میں سوات کا حل مذاکرات ہیں: ہوتی04 March, 2008 | پاکستان شدت پسندوں کی گرفتاریاں08 March, 2008 | پاکستان فضل اللہ کا ایف ایم چینل پھر’بند‘21 March, 2008 | پاکستان کالام: سات افراد جل کر ہلاک24 March, 2008 | پاکستان سوات آپریشن میں 41 گرفتار12 January, 2008 | پاکستان سوات میں فوج کی پیش قدمی 06 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||