عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | مولانا فضل اللہ کوایف ایم چینل کے ذریعے ہی علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی تھی |
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے ان تین غیر قانونی ایف ایم چینلز کو بند کردیا ہے جن پر چار روز قبل مقامی طالبان کے رہنماء مولانا فضل اللہ نے اپنی نشریات کا دوبارہ آغاز کر دیا تھا۔ دوسری طرف حکام نے مولانا فضل اللہ کے ایک اہم کمانڈر سمیت تیرہ مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کا دعوٰی بھی کیا ہے۔ سوات میڈیا سینٹر کےایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نے برہ بانڈہ کے علاقہ میں ان مقامات پر چھاپہ مارا جہاں سے مولانا فضل اللہ کی ریکارڈ شدہ تقاریر مبینہ طور پر نشر ہوا کرتی تھیں۔ ان کے دعوٰی کے مطابق چھاپہ کے دوران غیر قانونی ایف ایم چینل کے آلات کے علاوہ مولانا فضل اللہ کی ریکارڈ شدہ تقاریر پر مبنی درجنوں آڈیو کیسٹس ، اشتعال انگیز لٹریچر اور اسلحہ کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ ان کے بقول غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چینل چلانے والے تین افراد سمیت سات مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دنوں سے رات ساڑھے آٹھ سے ساڑھے نو بجے تک ایف ایم چینل پر مولانا فضل اللہ کی تقاریر نشر ہوا کرتی تھیں اور حکومت نے فریکونسی کو جام کرنے کی کوشش بھی کی جس میں اس سے مکمل طور پر کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی۔  | | | سکیورٹی فورسز نے چپریال کے علاقہ میں مولانا فضل اللہ کے ایک اہم کمانڈر چمنی خان کو اپنے ساتھی سمیت گرفتار کرلیا ہے |
واضح رہے کہ مولانا فضل اللہ کو غیر قانونی ایف ایم چینل کے ذریعے ہی علاقے میں مقبولیت حاصل ہوئی تھی جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے مقامی آبادی بالخصوص نوجوانوں پر مشتمل ایک مسلح فورس تشکیل دی تھی۔ تاہم گزشتہ سال اپریل میں فوجی آپریشن کے بعد مولانا فضل اللہ ایف ایم چینل بند کر کے اپنے درجنوں مسلح ساتھیوں کے ہمراہ علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل اللہ سکیورٹی فورسز کے خلاف مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایف ایم چینل کو ایک بار پھر مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حکام کے دعوٰی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے چپریال کے علاقہ میں مولانا فضل اللہ کے ایک اہم کمانڈر چمنی خان کو اپنے ساتھی سمیت گرفتار کرلیا ہے ۔اس کے علاوہ لنڈاکئی چیک پوسٹ پر بھی تلاشی کے دوران سات مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا دعوی کیا گیا ہے تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں بعض بےگناہ مقامی افراد بھی شامل ہیں۔ |