رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | سوات میں کئی ماہ سے کارروائی جاری ہے۔ |
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک درجن سے زائد مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات میں سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح چار باغ کے علاقے سے تین عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جنہیں بعد میں سرکٹ ہاؤس سوات میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں شمہ خیل اور ان کے دو بیٹے لیاقت اور خورشید شامل ہیں۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان تین افراد نے پہلے بھی سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے تاہم حکام نے انہیں ایک بار پھر حراست میں لیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے چار باغ کے علاقے سے ایک اور اہم کمانڈر بشیر کو بھی گرفتار کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق جمعہ کی شام بھی قانون نافذ کرنے والے اداراوں نے کوزہ بانڈئی اور دم غار کے علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران گیارہ مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔ واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ تین ہفتوں سے امن وامان کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ بتائی جارہی ہے۔ ایک ہفتہ قبل مینگورہ میں ڈی ایس پی کے جنازے پر ایک خودکش حملے میں چھیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ اس سے قبل سوات میڈیا سینٹر اور مٹہ میں بھی دو بم دھماکے ہوئے تھے جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق سترہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یادرہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال اکتوبر میں مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ سوات میڈیا سینٹر کے مطابق اس کارروائی میں اب تک سینکڑوں مشتبہ طالبان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ |