BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 May, 2008, 09:57 GMT 14:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: پر تشدد واقعات میں اضافہ

سوات
انتخابات کے بعد تحریک طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد سوات میں بھی پر تشدد واقعات میں کافی حد تک کمی آئی تھی
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں تشدد کی وارداتوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پیش آنے والے پانچ مختلف واقعات میں سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے علاوہ گرلز ہائیرسکینڈری سکول کی عمارت کو آگ لگاکر نذر آتش کردیا گیا ہے۔

سوات پولیس کا کہنا ہے کہ پہلا واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو اس وقت پیش آیا جب تحصیل کبل کے پولیس اسٹیشن اور گالف کورس پر بعض نامعلوم مسلح افراد نے راکٹوں سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا ہے۔

حکام کے بقول اس واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد مسلح افراد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم فائرنگ کے دوران فریقین کو کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

انتخابات کے بعد تحریک طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد شورش زدہ علاقے سوات میں بھی پر تشدد واقعات میں کافی حد تک کمی آئی تھی مگر حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مبینہ خاتمے کے بعد قبائلی علاقوں کی طرح سوات میں بھی گزشتہ چند دنوں سے پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ نصف شب تقریباً ایک بجے درجنوں مسلح افراد نے تحصیل مٹہ میں واقع گرلز ہائیر سکینڈری سکول میں داخل ہوکر چوکیدار کو مبینہ طور پر یر غمال بنایا اور عمارت کو آگ لگا دی۔ ان کے بقول آگ کی وجہ سے آٹھ کمرے، فرنیچراور اسکول کا زیادہ تر ریکارڈ جل کر تباہ ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ گزشتہ شب ایک اور واقعے میں نامعلوم افراد نے تحصیل کبل کے علاقے لانگھڑ میں واقع سی ڈی فلمیں فروخت کرنے والی دو دکانوں کو نذر آتش کیا ہے۔

دوسری طرف پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح نامعلوم افراد نے یونین کونسل کیشورہ کے ناظم یوسف خان کے بھائی کو اغواء کیا ہے جبکہ ایک دوسرے واقعہ میں مسلح افراد نے یونین کونسل توتانو بانڈہ کے ناظم سیف اللہ کے بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں وہ محفوظ رہے ہیں۔

شورش زدہ سوات میں گزشتہ چند روز کے دوران پر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بدھ کو بھی نامعلوم مسلح نقاب پوشوں نے لڑکیوں کے ایک سکول کو آگ لگائی تھی جس سے سکول کی عمارت تباہ ہوگئی تھی جبکہ چار دن قبل بھی چہار باغ میں بھی لڑکیوں کے ایک ہائی سکول کو نامعلوم مسلح افراد نے نذر آتش کردیا تھا ۔

ان تمام واقعات میں مبینہ طور ملوث کسی بھی شخص کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکاہے اور نہ ہی انتظامیہ نے کسی کو ذمہ دار ٹھرایا ہے۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد تحریک طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد شورش زدہ علاقے سوات میں بھی پر تشدد واقعات میں کافی حد تک کمی آئی تھی مگر حکومت اور طالبان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے مبینہ خاتمے کے بعد قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع کی طرح سوات میں بھی گزشتہ چند دنوں سے پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اسی بارے میں
سوات: مٹہ کے نائب ناظم قتل
25 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد