سوات، سکیورٹی میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کےضلع سوات میں نئی حکومت اور طالبان کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر بعض مسلح طالبان نے روپوشی ختم کر کے شورش زدہ علاقوں میں گشتیں شروع کردی ہیں تاہم جمعرات کو سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف ایک بڑا سرچ آپریشن کیا ہے جس میں آٹھ مشتبہ افراد کی گرفتاری کا دعوی کیا گیا ہے۔ سوات میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پچھلےدو دنوں سے ایسی رپورٹیں مل انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کو کئی مسلح طالبان نے امام ڈھیرئی میں واقع مولانا فضل اللہ کےمرکز کی صفائی کی تھی جہاں پر انہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا تھا کہ جمعہ کو مولانا فضل اللہ اپنے مرکز میں خطبہ دیں گے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ چند دنوں سے رونما ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ ابھی تک مذاکرات کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا ہے لہذا طالبان کو اس قسم کی مبینہ سرگرمیوں کی اجازت ہرگز نہیں ملنی چاہیئے۔انکے بقول جمعرات کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نےامام ڈھیرئی کے علاقہ میں ایک سرچ آپریشن کیا جس کے دوران بقول انکے تقریباً آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مسلح طالبان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے امام ڈھیرئی مرکز کے قریب مستقل طور پر ایک چیک پوسٹ بھی قائم کردیا ہے ۔ دوسری طرف سوات کے مسئلے کو جرگے کے ذریعے حل کرانے کے لیے نومنتخب حکومت کی جانب سے صوبائی وزراء اور ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کو پشاور میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے ایک رکن سنیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ گرینڈ جرگے کی تشکیل کے حوالے سے علماء، وکلاء اور سول سوسائٹی سے رابطوں کا سلسلہ فوراً شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کی روشنی میں جو جرگہ تشکیل پائے گا وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کاباقاعدہ آغاز کرے گا۔ ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال اکتوبر میں مسلح طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا اور کئی دنوں کی لڑائی کے بعد طالبان علاقہ چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہو گئے تھےجس کے بعد سے وہاں پر خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ تاہم اٹھارہ فروری کے اتخابات کےنتیجہ میں قائم ہونے والی مرکزی اور صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے بعد سترہ مارچ کے بعد سے سوات میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ | اسی بارے میں مذاکرات پر تنقید نہ کریں: ہوتی10 April, 2008 | پاکستان قبائلی علاقوں میں سرگرم ایک رکن کی ویڈیو10 April, 2008 | آس پاس سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ بندی06 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||