BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 April, 2008, 02:31 GMT 07:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات، سکیورٹی میں اضافہ

سوات
ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال اکتوبر میں مسلح طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا
صوبہ سرحد کےضلع سوات میں نئی حکومت اور طالبان کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے پیش نظر بعض مسلح طالبان نے روپوشی ختم کر کے شورش زدہ علاقوں میں گشتیں شروع کردی ہیں تاہم جمعرات کو سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف ایک بڑا سرچ آپریشن کیا ہے جس میں آٹھ مشتبہ افراد کی گرفتاری کا دعوی کیا گیا ہے۔

سوات میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں پچھلےدو دنوں سے ایسی رپورٹیں مل
ہی تھیں کہ مسلح طالبان ایک بار پھر علاقے میں جمع ہونے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے امام ڈھیرئی اور شکردرہ کے علاقوں میں باقاعدہ مسلح گشتیں بھی شروع کردی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بدھ کو کئی مسلح طالبان نے امام ڈھیرئی میں واقع مولانا فضل اللہ کےمرکز کی صفائی کی تھی جہاں پر انہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا تھا کہ جمعہ کو مولانا فضل اللہ اپنے مرکز میں خطبہ دیں گے۔

 کچھ اطلاعات کے مطابق مسلح طالبان نے امام ڈھیرئی میں واقع مولانا فضل اللہ کےمرکز کی صفائی کی تھی جہاں پر انہوں نے لوگوں سے یہ بھی کہا تھا کہ جمعہ کو مولانا فضل اللہ اپنے مرکز میں خطبہ دیں گے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ چند دنوں سے رونما ہونے والی صورتحال کا جائزہ لے رہی تھی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ چونکہ ابھی تک مذاکرات کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا ہے لہذا طالبان کو اس قسم کی مبینہ سرگرمیوں کی اجازت ہرگز نہیں ملنی چاہیئے۔انکے بقول جمعرات کی علی الصبح سکیورٹی فورسز نےامام ڈھیرئی کے علاقہ میں ایک سرچ آپریشن کیا جس کے دوران بقول انکے تقریباً آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے مسلح طالبان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے امام ڈھیرئی مرکز کے قریب مستقل طور پر ایک چیک پوسٹ بھی قائم کردیا ہے ۔

 فوجی حکام کے مطابق جمعرات کو علی الصبح سکیورٹی فورسز نےامام ڈھیرئی کے علاقہ میں ایک سرچ آپریشن کیا جس کے دوران بقول انکے تقریباً آٹھ مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا گیا

دوسری طرف سوات کے مسئلے کو جرگے کے ذریعے حل کرانے کے لیے نومنتخب حکومت کی جانب سے صوبائی وزراء اور ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی کا پہلا اجلاس جمعرات کو پشاور میں منعقد ہوا۔

کمیٹی کے ایک رکن سنیئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ گرینڈ جرگے کی تشکیل کے حوالے سے علماء، وکلاء اور سول سوسائٹی سے رابطوں کا سلسلہ فوراً شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی تجاویز کی روشنی میں جو جرگہ تشکیل پائے گا وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کاباقاعدہ آغاز کرے گا۔

ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز نے گزشتہ سال اکتوبر میں مسلح طالبان کے خلاف ایک بڑا آپریشن شروع کیا تھا اور کئی دنوں کی لڑائی کے بعد طالبان علاقہ چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہو گئے تھےجس کے بعد سے وہاں پر خودکش حملوں، بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ تاہم اٹھارہ فروری کے اتخابات کےنتیجہ میں قائم ہونے والی مرکزی اور صوبائی حکومت کی جانب سے مبینہ عسکریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے بعد سترہ مارچ کے بعد سے سوات میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد