’طالبان معاہدوں سے حملوں میں اضافہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیٹو افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ مشرقی افغانستان کے کئی علاقوں میں مزاحمت کاروں کے حملوں میں اضافے کی ایک وجہ پاکستانی حکومت اور قبائلی علاقوں میں سرگرم شدت پسندوں کے درمیان ہونے والے معاہدے ہیں۔ نیٹو کے ترجمان جیمس اپاتھوراے کا کہنا ہے کہ اِن معاہدوں کی وجہ سے امکان ہے کہ شدت پسند پاکستان کے قبائلی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ نیٹو کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ بدھ کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک میں حکومت اور محسود قبائل کے جرگے نے ایک دوسرے کے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ تاہم افغانستان میں پاکستان کے مغوی سفیر رہا ہونے والوں میں شامل نہیں۔ مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے دلاور خان وزیر کو بتایا کہ جرگے نے سکیورٹی فورسز کے بارہ اہلکاروں کو مقامی انتظامیہ تک پہنچایا اور حکومت نے بیت اللہ محسود گروپ کے بتیس مقامی طالبان کو جرگے کے حوالے کر دیا۔ بیت اللہ گروپ کے تیس طالبان کو گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان سنٹرل جیل سے ایک ہیلی کاپیٹر کے ذریعے وانا زیڑی نور میں فوجی کالونی منتقل کر دیا گیا تھا جہاں سے انہیں شمالی وزیرستان کی تحصیل رزمک لے جایا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق طالبان کے رہا ہونے والے بتیس ساتھیوں کو رزمک سے جنوبی وزیرستان کی تحصل مکین تک جلوس کی شکل میں لایا گیا۔ مکین میں موجودہ ایک شخص فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس موقع پر مکین میں جشن کا سماں تھا اور لوگ گھروں سے باہر سڑکوں پر کھڑے تھے۔ مقامی طالبان کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایاکہ طالبان کی جانب سے رہا ہونے والوں میں شامل تمام لوگ سکیورٹی فورس کے اہلکار تھے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق اس مرحلے کے بعد جنوبی وزیرستان میں بعض علاقوں سے فوج کی واپسی شروع ہو جائے گی۔ | اسی بارے میں سفیر کی رہائی، طالبان کی شرائط20 April, 2008 | پاکستان تیسں طالبان کی رہائی متوقع13 May, 2008 | پاکستان وزیرستان: طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی29 April, 2008 | پاکستان ’اصل جہاد تو افغانستان میں ہے‘01 May, 2008 | پاکستان ’ایف سی کے اہلکار اغواء اور رہائی‘ 08 May, 2008 | پاکستان جرگہ: لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی 09 May, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||