وزیرستان:نقصان کے اندازے کیلیےکمیٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران عام شہریوں کو پہنچنے وا لے جانی و مالی نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے حکومتی اہلکاروں، طالبان اور قبائلی مشران پر مشتمل ایک بارہ رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے۔ جنوبی وزیرستان کے پولٹیکل ایجنٹ کی جانب سے چوبیس مئی کو جاری ہونے والی ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس سال جنوری میں محسود علاقے میں کیےگئے آپریشن کے دوران بعض’ بے گناہ‘ لوگوں کو نہ صرف جانی ومالی نقصان پہنچا ہے بلکہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقوں کو نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ بی بی سی کو موصول ہونے والی اس نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے متاثرہ افراد کو معاوضہ ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایک فارم بھی جاری کیا ہے جس سے ہر متاثرہ شخص کو پُر کرنا ہوگا۔ پولٹیکل ایجنٹ نے آپریشن کے دوران پہنچنے والے ان نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے ایک بارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں قبائلی مشران اور طالبان کے پانچ جبکہ حکومت کے سات نمائندے شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ پولٹیکل آفسر خائستہ رحمان، لدہ سب ڈویژن کے اسٹنٹ پولٹیکل آفسر پرہیز گار خان، خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے انسپکٹر اشرف خان، آئی بی کے انسپکٹر خورشید ،انجنیئر صلاح الدین بیٹنی اور ایس ڈی او ثناؤاللہ شامل ہیں۔کمیٹی میں ملٹری انٹیلیجنس کے ایک نمائندے کو بھی شامل کیا گیا ہے تاہم نوٹیفیکیشن میں انکا نام ظاہرنہیں کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں جن دیگر پانچ ارکان کا ذکر کیا گیا ہے ان میں مولانا خواجہ محمد، مولانا رئیس خان، مولانا عزت گل، مفتی نور رحمان اور شاہ محمود شامل ہیں۔ان میں مولانا خواجہ محمد طالبان کے سپنکئی رغزئی جبکہ مولانا رئیس خان کو بروند کا امیر بتایا جارہا ہے۔مولانا رئیس خان کو حکومت نے امن مذاکرات سے قبل طالبان کے مطالبے پر جیل سےرہا کردیا تھا۔ اس سلسلے میں جب جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے دفتر میں موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ وہ کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ آپریشن سے متاثرہ علاقوں کےدورہ پر ہیں۔ طالبان اور حکومت کے درمیان ہونے والی مبینہ خفیہ بات چیت کے نتیجے میں فریقین نے ایک دوسرے کے گرفتار شدہ افراد کو رہا کردیا تھا جن میں پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین بھی شامل تھے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ جنوری میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے ازالے کے لیے متاثرہ افراد کو معاوضوں کی ادائیگی بھی کی جائے گی جس کا باقاعدہ اعلان مشیر داخلہ رحمان ملک نے دو ہفتے قبل گورنر ہاؤس پشاور میں محسود قبیلے کے عمائدین کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا تھا۔ | اسی بارے میں حکومت نواز طالبان پر حملے کریں گے02 June, 2008 | پاکستان حکومت، طالبان: قیدیوں کا تبادلہ14 May, 2008 | پاکستان ٹانک، وانا شاہراہ دوبارہ بند 08 May, 2008 | پاکستان وزیرستان: طالبان کو کروڑوں کی ادائیگی29 April, 2008 | پاکستان ’طالبان کے تحت وانا میں امن‘15 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||