حکومت نواز طالبان پر حملے کریں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قبائلی علاقے وزیرستان میں سرگرم ازبک جنگجؤوں کی حمایت یافتہ تنظیم ’انصار و مہاجرین‘ نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں طالبان کے سربراہ ملا نذیر کے ایک اہم کمانڈر حاجی خانان خان کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ خود کو تنظیمِ انصار و مہاجرین کے ترجمان ظاہر کرنے والے قاری مدثر نامی شخص نے ایک نامعلوم مقام سےسٹیلائٹ فون سے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے ملا نذیر گروپ کے کمانڈر خانان خان کی ہلاکت کی ذمہ داری جنوبی وزیرستان سے ازبک جنگجؤوں کے ہمراہ نکالے جانے والے مقامی کمانڈر حاجی نورالسلام کی جانب سے قبول کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاجی خانان خان پر اس سے قبل بھی ناکام حملے کیے گئے تھے مگر اتوار کے روز انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کے درازندہ کے مقام پر انہیں دو ساتھیوں سمیت قتل کردیا۔ قاری مدثر کا مزید کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں بھی جنوبی وزیرستان میں ’حکومت نواز‘ طالبان کمانڈروں کو نشانہ بنائیں گے اور ان کے اس حملے کو پہلا اور آخری نہ سمجھا جائے۔ قاری مدثرکا کہنا تھا کہ تنظیمِ انصار و مہاجرین کا قیام چند ماہ قبل ہی عمل میں لایا گیا تھا جس کی سربراہی طالبان کمانڈر حاجی عمر کے بھائی حاجی نور اسلام کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ وانا کے طالبان اور قبائلی لشکر نے حکومت کی حمایت سے انیس مارچ دو ہزار سات میں ازبک جنگجؤوں اور انکے حمایت یافتہ بعض مقامی کمانڈروں کے خلاف لشکر کشی کی تھی۔ فریقین کے درمیان تقریباً دو ہفتے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی شدید لڑائی کے بعد ازبک جنگجوؤں کو علاقہ سے بیدخل کردیا گیا تھا۔ ان جنگجؤوں کے ہمراہ مقامی طالبان کے کمانڈر حاجی عمر اور انکے بھائی حاجی نور السلام، حاجی جاوید اور غلام جان بھی علاقہ چھوڑ کر شمالی وزیرستان منتقل ہوگئے تھے۔ تنظیمِ انصار و مہاجرین نے چند ماہ قبل وانا میں طالبان کے سربراہ ملا نذیر کے دفتر پر کیے جانے والے حملے کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔ قتل کیے جانے والے ’حکومت نواز‘ کمانڈرخانان خان نے غیر ملکیوں کو وانا سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور کچھ عرصہ قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں ازبکوں نے ان کے دفتر پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے پانچ ساتھی ہلاک ہو گئے تھے۔اس واقعہ کے بعد خانان خان نے جوابی کارروائی میں دو ازبک جنگجؤوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس احمد غنی نے خانان خان کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سے ایک قومی نقصان قرار دیا ہے۔ گورنر نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ خانان خان نے وزیرستان سے غیر ملکیوں کو نکالنے میں’تاریخی کردار‘ ادا کیا تھا اور انکی ہلاکت سے ملک ایک عظیم محبِ وطن سے محروم ہوگیا ہے۔ | اسی بارے میں ڈیرہ: مقامی طالبان کمانڈر ہلاک01 June, 2008 | پاکستان شکئی: دو غیر ملکی جنگجو ہلاک13 January, 2008 | پاکستان ’غیر ملکیوں‘ کی مدد پر گھر مسمار20 October, 2007 | پاکستان وزیرستان میں طالبان کا ’انصاف‘24 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||