دلاور خان وزیر بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،ڈیرہ اسماعیل خان |  |
 | | | پولیس نے لاشوں اور زخمیوں کو ہستپال پہنچا دیا |
پاکستان کے نیم قبائیلی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ملاح نظیر گروپ کے مقامی طالبان کے ایک کمانڈر سمیت دو افراد کو ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا ہے۔ لاشوں اور زخمیوں کو سول ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کر دیا گیا ہے۔ نامعلوم افراد حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کے سربراہ عبدول غفار کیسرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو تین بجے کے قریب ملاح نظیر گروپ کے مقامی طالبان کمانڈر خانان خان اور ان کے کچھ ساتھی دو گاڑیوں میں ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درہ زندہ میں کہیں جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے ان کی گاڑیوں پر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں خانان خان ہلاک اور ان کا ڈرائیور شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس کے سربراہ نے کہا کہ پولیس نے لاشوں اور زخمی کو ہستپال پہنچا دیا تھا لیکن بعد میں کمانڈر خانان اور ان کے ساتھی کی لاشوں کو فوج نے اپنے قبضے میں لے لیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایف آر درہ زندہ پولیس کے کنٹرول سے باہر ہے جہاں لیویز اور خاصہ دار فورس کام کرتی ہے۔ درہ زندہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لیویز اور خاصہ دار فورس نے تلاشی کا کام شروع کر دیا لیکن کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ یاد رہے کہ خانان خان اہم کمانڈر تھے جنہوں نے غیر ملکی ازبیکوں کو وانا سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور کچھ عرصہ قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں غیر ملکی ازبیکوں نے ان کے دفتر پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے پانچ ساتھی ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد خانان خان نے بھی جوابی کارروائی میں دو ازبیکوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔ |