’نئے امن معاہدے پرانوں سے بہتر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان اور صوبہ سرحد میں ضلع سوات میں حکومت کی جانب سے کیے جانےوالے امن معاہدوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مضبوط پوزیشن سے کیے گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے ملک کے موجودہ سیاسی اور اقتصادی حالات پر خیالات کا اظہار کیا۔ کچھ عرصے سے ان کی جانب سے میڈیا کو انٹرویوز میں بھی کمی سے ان کے ملکی صورتحال پر براہ راست خیالات کم ہی سامنے آتے ہیں۔ اس موقع پر گورنر سرحد اویس غنی، چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید، فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل تنویر محمود بھی موجود تھے۔ صدر نے دو برس قبل سوات اور جنوبی وزیرستان میں کیے جانے والے امن معاہدوں سے تازہ معاہدوں کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مضبوط پوزیشن سے کیے گئے ہیں۔ سوات میں تو امن معاہدے کا سرحد حکومت نے باقاعدہ اعلان کیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ صدر کا جنوبی وزیرستان میں کس معاہدے کی جانب اشارہ ہے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے سے محض مذاکرات کی اطلاعات تھیں تاہم کسی باقاعدہ معاہدے کا اعلان نہ تو بیت اللہ محسود نے کیا اور نہ حکومت نے تصدیق کی ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں شاید حکومت شمالی وزیرستان کی طرز پر جنوبی وزیرستان میں بھی شدت پسندوں کے ساتھ امن معاہدہ کرچکی ہے لیکن بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر وہ اس کا اعلان نہیں کرنا چاہتی۔ صدر نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ان کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان علاقوں میں القاعدہ یا غیرملکی عناصر کے روابط نہ بڑھیں اور سرحد پار کوئی آمد و رفت نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سیاست سے کام نہیں لینا چاہیے اور ان علاقوں کو باقی ماندہ ملک کے ساتھ اقتصادی طور پر برابر کیا جانا ضروری ہے۔ اسی طرح انہوں کہا کہ شمالی علاقاجات کو ملک سے بہتر سڑکوں اور مواصلات کے رابطوں کے ذریعے ملایا جانا چاہیے۔ افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ بین الاقوامی فوجوں کے نکل جانے سے وہاں کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس سے روسی افواج کے انخلاء والی صورتحال پیدا ہو جائے گی جب مجاہدین آپس میں لڑ پڑے تھے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو انہوں نے انتہائی اہم قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ محض انتہا پسندی اور دہشت گردی سے مقابلے کی حد تک محدود نہ ہو۔ ملک کی اقتصادی حالت پر بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ معاشی اشارے مضبوط ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت جاری بدحالی کو روکنے میں کامیاب ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اقتصادی ابتری روکی جاسکتی ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ حکومت سیاسی طور پر آگے بڑھ کر پٹڑی سے اتری ہوئی صورتحال کو واپس ٹریک پر ڈالے گی۔ یہ کیا جاسکتا ہے۔‘ انہوں نے سٹاک ایکسچینج میں اربوں روپے کے نقصان اور روپے کی قدر میں کمی کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ ان کے بقول روپے کی قدر میں ایک روپے کی کمی سے ملک کو اٹھائیس ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ادھر جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل طارق مجید نے سنگاپور میں انٹرنیشنل اسٹیٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کے ایک مذاکرے سے خطاب میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالات، اتحادی افواج کے افغانستان کے پشتون خطوں میں بےرحمانہ کاروائیوں، قبائلی علاقوں میں سرحد پار سے میزائل حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے ان کی انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کو انتہائی نچلی سطح پر مینج کرنے سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض مسلمانوں کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ردعمل سے صورتحال میں ابتری آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمت عملی کی سطح پر کامیابیوں کے باوجود پائدار سلامتی کا ہدف حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ |
اسی بارے میں سوات: معاہدے پر امریکی تحفظات22 May, 2008 | پاکستان حکومت و طالبان کا امن معاہدہ21 May, 2008 | پاکستان جنوبی وزیرستان امن معاہدہ بھی ختم18 August, 2007 | پاکستان حکومت اور طالبان میں تین معاہدے05 September, 2006 | پاکستان وزیرستان: جنگ بندی میں توسیع25 August, 2006 | پاکستان عسکریت پسندوں سے معاہدہ 28 November, 2005 | پاکستان فوج کی قبائلیوں سے ڈیل12 January, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||