 | | | امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے امریکی حکومت کا موقف بیان کیا |
امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکومت اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کو دہشتگردی کی منصوبہ بندی کی آڑ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ امریکہ کے دفتر خارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے کہا ہے کہ’ہم یہ نہیں دیکھنا چاہیں گے کہ سمجھوتے کی آڑ میں شدت پسندوں کو دہشت گردی کی منصوبہ کی آزادی مل جائے‘۔ واشنٹگن سے بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کے مطابق دفترِخارجہ کے ترجمان شان میکارمک نے کہا کہ وہ یہ دیکھنا چاہیں گے کہ جو لوگ پہلے سیاسی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے کیا وہ اب اس میں شامل ہوں گے اور خون خرابہ چھوڑ دیں گے۔ دوسری طرف برطانیہ نے حکومت پاکستان کی قبائلی علاقوں میں امن بات چیت کی حمایت کی ہے۔ برطانیہ کے وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بدھ کو اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ برطانیہ پاکستانی حکومت اور قبائلی رہنماؤں کے مابین سمجھوتے کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں شدت پسندی روکنے کا فوجی حل نہیں ہو سکتا لیکن سمجھوتہ یا بات چیت انہی لوگوں سے ہونی چاہیے جو خون خرابہ چھوڑنے کو تیار ہو۔ یاد رہے کہ بدھ کو صوبہ سرحد کی حکومت اور سوات کے مقامی طالبان کے مابین پندرہ نکاتی امن معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت سوات کے مقامی طالبان پاکستانی ریاست، صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی عملداری تسلیم کرتے ہوئے ان کے دائرہ کار کے اندر رہیں گے جبکہ معاہدے کے مطابق حکومت مالاکنڈ ڈویژن میں بہت جلد شریعت محمدی کا نفاذ عمل میں لائے گی۔  | | | بشیر بلور نے صحافیوں کو معاہدے کی تفصیلات بتائیں |
بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صوبہ سرحد کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور نے بدھ کو اس معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت عسکریت پسند حکومتی اہلکاروں، فوج، پولیس اہلکاروں اور سرکاری املاک پر حملے نہیں کریں گے، پرائیویٹ ملیشاء پر پابندی ہوگی، عسکریت پسند خود کش حملوں سے دست بردار ہونگے اور اس کی مذمت کی جائیگی، ذاتی اور سرکاری دوکانوں پر حملے نہیں ہونگے۔ اس کے علاوہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں بھی نہیں ہونگے اور فوج کو حالات کے مطابق بتدریج واپس بیرکوں میں بھیجا جائے گا۔ سوات میں قیدیوں کے مقدمات کا جائزہ لے کر ان کو رہا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین نے اس امر پر بھی اتفاق کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مختلف کارروائیوں کے دوران ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیکر مستحق افراد کو معاوضہ ادا کیا جائے گا، پولیو اور دیگر بیماریوں کے ویکسین دینے پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، خواتین کی تعلیم میں بھی کوئی روکاوٹ نہیں ڈالی جائیگی جبکہ اسلحہ کی نمائش پر بھی مکمل پابندی ہوگی اور ایسے تمام ٹریننگ مراکز کا خاتمہ ہوگا جہاں خود کش حملوں اور ریموٹ کنٹرول بم بنانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ بشیر بلور نے کہا کہ مجاز ادارے کے لائسنس اور قواعد کے مطابق ایف ایم ریڈیو پر بات چیت ہوگی جبکہ مولانا فضل اللہ کے مرکز امام ڈھیری کو اسلامی یونیورسٹی میں تبدیل کیا جائے گا۔ مرکز کے انتظام کےلیے ایک کمیٹی بنائی جائیگی جس میں حکومت اور طالبان کے نمائندے شامل ہونگے۔  | امریکہ کا ردعمل  ہم یہ نہیں دیکھنا چاہیں گے کہ سمجھوتے کی آڑ میں شدت پسندوں کو دہشت گردی کی منصوبہ کی آزادی مل جائے۔ یہ دیکھنا چاہیں گے کہ جو لوگ پہلے سیاسی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہتے تھے کیا وہ اب اس میں شامل ہوں گے اور خون خرابہ چھوڑ دیں گے۔  شان میکارمک |
سنئیر وزیر نے کہا کہ امن معاہدے پر عمل درآمد کےلیے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں صوبائی وزیرِ ماحولیات واجد علی خان، ایم پی اے ڈاکٹر شمیر علی خان، ڈی آئی جی مالاکنڈ ، ڈی پی آو اور ڈی سی او سوات جبکہ طالبان کی جانب سے حاجی مسلم خان، مولانا محمد امین، علی بخت خان، محمود خان اور نثار خان شامل ہیں۔ مذاکرات میں شامل سوات کے مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے بی سی سی کو بتایا کہ امن معاہدہ توطے پا گیا ہے تاہم سوات میں حالات معمول پر آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے سوات میں گزشتہ روز پولیس اہلکار اور لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ان کے حامیوں نہیں کیے بلکہ ان میں بعض بیرونی اور اندرونی قوتیں ملوث ہیں جو ان کے بقول نہیں چاہتی کہ سوات میں امن قائم ہو۔ تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا فضل اللہ کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے البتہ وہ بہت جلد آزاد ہوجائیں گے۔ |