معاہدہ افغانستان پر لاگو نہیں: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس بات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ وہ افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ نہیں لیں گے۔ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ تحریک طالبان ایک ’جہادی تنظیم‘ ہے اور وہ ’جہاد‘ کو ایک مقدس اسلامی فریضہ سمجھتے ہوئے اس سے دستبردار ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ انکے مطابق حکومت پاکستان کے ساتھ جاری رہنے والی بات چیت میں اس نکتے کو ہرگز زیر بحث نہیں لایا جائے گا کہ طالبان افغانستان میں موجود اتحادی افواج کے خلاف مزاحمت میں حصہ نہیں لیں گے۔
تاہم انکا کہنا تھا کہ پاکستان انکا ملک ہے اور انکی کوشش ہے کہ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں یہاں پر مکمل طور پر امن وامان قائم ہوجائے۔ انکے مطابق ’ ہم پر یہاں جنگ مسلط کی گئی ہے اور ہماری خواہش ہے کہ قبائلی علاقوں، صوبہ سرحد اور ملک کے دیگر حصوں میں جلد ازا جلد امن کا قیام ہو۔‘ مولوی عمر کا مزید کہنا تھا کہ ہزاروں میل دور سے آئے ہوئےغیر ملکی افواج نےافغانستان پر اپنا قبضہ جمایا ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے انہیں یہاں سے نکالنا ہمارا ’مذہبی فریضہ‘ ہے ۔انکے بقول حکومت پاکستان کا غیر ملکی افواج کے خلاف مزاحمت نہ کرنے کے مطالبے کو ہم ایک’غیر شرعی‘ عمل تصور کرتے ہیں۔ طالبان کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دو روز قبل افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے ترجمان جیمس اپاتھورائے نے دعویٰ کیا تھا کہ مشرقی افغانستان میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال مزاحمت کاروں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جسکی ایک وجہ بقول انکے پاکستانی حکومت اور قبائلی علاقوں میں سرگرم’شدت پسندوں‘ کے درمیان ہونے والے معاہدے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اِن معاہدوں کی وجہ سے امکان ہے کہ ’شدت پسند‘ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو محفوظ پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کریں۔ طالبان اور حکومت کے درمیان جاری بات چیت میں پیشرفت ہورہی ہے۔گزشتہ چند دنوں کے دوران بیت اللہ گروپ کے پچپن اور سکیورٹی فورسز کے اٹھارہ اہلکار رہا ہوئےہیں جبکہ ذرائع کے مطابق فوج نے محسود قبائل کے تین مقامات کوٹ کائی، چگملائی اور سپنکئی راغزئی سے واپسی شروع کردی ہے۔ |
اسی بارے میں تئیس طالبان، چھ اہلکاروں کی رہائی16 May, 2008 | پاکستان مالاکنڈ: شریعت کا نفاذ ایک ماہ میں13 May, 2008 | پاکستان قبائلی علاقوں میں میزائل حملوں میں اضافہ15 May, 2008 | پاکستان ’جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں‘23 April, 2008 | پاکستان مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا گیا21 April, 2008 | پاکستان مغوی پاکستانی سفیر ’طالبان کے قبضے میں‘19 April, 2008 | پاکستان ’طالبان کے تحت وانا میں امن‘15 April, 2008 | پاکستان طالبان سے مفاہمت کہاں تک جائے گی؟03 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||