’جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مقامی طالبان نے امریکہ کو امن مذاکرات کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں وہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف کاروائیاں ترک کرنے کے پابند نہیں ہونگے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے بدھ کو بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ جس طرح پاکستان میں نئی حکومت نے مقامی طالبان کے ساتھ تمام معاملات بات چیت کے ذریعے طے کرنے کی پالیسی اپنائی ہے اس طرح امریکہ حکومت کو بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ’ہمارا یہ پیغام ہے کہ ظلم وجبر اور جنگ و جدل سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ امریکہ اور یورپی ممالک کو بھی پاکستان کی تقلید کرنی چاہیے۔‘ ’ہم طالبان بات چیت کے عمل سے تمام معاملات طے کرنے کےلیے تیار ہیں۔‘ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ’ اگر امریکہ نے ان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تو یہ مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ مسلمان جہاں بھی ہیں سب یک جان ہے اور امریکہ ہی نے ان سب کو اکھٹا کرکے اپنے مقابلے کےلئے للکارا ہے۔‘ مولوی عمر نے ایک انگریزی روزنامہ ڈان میں شائع ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین امن معاہدے کے لیے ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے اس مسودے میں شامل زیادہ تر نکات پر اتفاق ہوگیا ہے، تاہم بعض چیزوں پر بات چیت کا سلسلہ جاری ہے اور آئندہ کچھ روز تک امن معاہدہ متوقع ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ حکومت کے ساتھ امن معاہدے کی صورت میں طالبان افغانستا ن میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف کارروائی ترک کرنے کے پابند نہیں ہونگے بلکہ سرحد پار ان کا ’جہاد‘ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک امریکہ افغانستان پر اپنا قبضہ ختم نہیں کرتا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ معاہدے کی صورت میں وہ قبائلی علاقوں میں کسی غیر ملکی یا القاعدہ جنگجوؤں کو پناہ نہیں دینگےتو انہوں نے کہا کہ ’ہم تو پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کے قبائلی علاقوں میں کوئی غیر ملکی موجود نہیں البتہ جو لوگ یہاں سے ’جہاد ’ کرتے ہیں وہ سب پاکستانی طالبان ہیں۔‘ مولوی عمر نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اب تک کی بات چیت میں دونوں طرف سے مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور ان سے جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل درآمد بھی ہورہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومت نے خیر سگالی کے طورپر کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا ہے اور آج سے جنوبی وزیرستان سے فوج کے انخلاء کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اپنے وعدوں پر قائم ہے۔ | اسی بارے میں ’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘20 April, 2008 | پاکستان ’پاکستانی حکومت یکطرفہ لچک نہ دکھائے‘21 April, 2008 | پاکستان مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا گیا21 April, 2008 | پاکستان فاٹا میں کارروائی: فیصلہ مؤخر 21 April, 2008 | پاکستان حکومت، صوفی محمد میں معاہدہ طے21 April, 2008 | پاکستان یواین اہلکاروں کا اغواءاور بازیابی21 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||