BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 16:20 GMT 21:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا گیا

 صوفی محمد کے حمایتی (فائل فوٹو)
سوات کے علاقے میں صوفی محمد کے حمایتی بڑی تعداد میں موجود ہیں
سرحد حکومت نے کالعدم مذہبی تنظیم تحریکِ نفاذ شریعتِ محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو رہا کر دیا ہے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے رہائی کے احکامات جاری ہونے کے بعد مولانا صوفی محمد کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے رہا کیا گیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصہ سے صحت کی خرابی کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد مولانا صوفی محمد کو شاہی مہمان خانے کو لے جایا گیا جہاں انہوں نے سرحد کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی سے بند کمرے میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کو مقامی صحافیوں سے خفیہ رکھا گیا۔ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ پیر کی رات پشاور میں رہیں گے جبکہ کل وہ اپنے آبائی گھر جائیں گے۔ پشاور سے ان کی روانگی کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔

صوبائی وزیراطلاعات اور سرحد حکومت کے ترجمان سردار حسین بابک نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا صوفی محمد کی رہائی غیر مشروط طورپر عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ اور ان کے حامیوں کے مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نفاذ کے حوالے سے جو مطالبات ہیں وہ جائز ہیں کیونکہ کوئی بھی مسلمان شریعت کے نفاذ کا مخالف نہیں ہو سکتا۔

ان کے مطابق تنظیم کے شریعت اور اسلامی نظام سے متعلق مطالبات پر صوبائی حکومت کی طرف سے غور کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صوفی محمد نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مالاکنڈ ڈویژن میں شریعت کے نافذ کے لیے پرامن جد وجہد کریں گے۔

 پاکستان کے مقامی طالبان ماضی میں مولانا صوفی محمد کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں اور اس برس فروری میں اغواء ہونے والے پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کی رہائی کے عوض جن بارہ افراد کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ان میں بھی مولانا صوفی محمد کا نام شامل تھا۔

صوبائی وزیر نے ان اطلاعات کی بھی سختی سے تردید کی کہ مولانا کی رہائی ایک معاہدے کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان نے مولانا صوفی محمد کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ تنظیم کا شروع سے یہ مطالبہ رہا ہے کہ مولانا صوفی محمد اور لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کو فوری طورپر رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا صوفی محمد تو رہا ہوگئے اور اب امید ہے حکومت مولانا عبد العزیز کو بھی جلد ہی رہا کر دے گی۔

مولانا صوفی محمد سنہ دو ہزار ایک میں امریکہ کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد مالاکنڈ ڈویژن سے سینکڑوں لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر’جہاد‘ کے لیے افغانستان گئے تھے۔طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان سے پاکستان آتے ہوئے انہیں پاک افغان سرحد پرگرفتار کر لیا گیا تھا جس کے بعد وہ جیل میں قید تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد