BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 17:15 GMT 22:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی حکومت یکطرفہ لچک نہ دکھائے‘

سید صلاح الدین
’بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے کبھی بھی مخلص نہیں رہا‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کئی برس کے وقفے کے بعد ایک جہاد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس سے کشمیر میں برسرِ پیکار عسکری تنظیموں کے رہنماؤں نے خطاب کیا ہے۔

جہاد کانفرنس کشمیری پناہ گزینوں کی تنظیم پاسبان حریت جموں کشمیر کے زیراہتمام ہوئی جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بر سر ِپیکار قریباً نصف درجن عسکری تنظیموں پر مشتمل اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے صدر پرویز مشرف پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ان کے اقدامات نے کشمیر کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’نائن الیون کے بعد پاکستان کے صدر کی سرکار نے کشمیر کے معاملے پر یکطرفہ پسپائی اختیار کی اور بھارت کی طرف یکطرفہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور جواب میں انہیں بھارت کی جانب سے رسوائی اور جوتوں کے سوا کچھ نہیں ملا‘۔

سب سی بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ ’پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو ایک ثانوی مسئلہ بنایا اور بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائیں اور ان یکطرفہ اقدامات کے نتیجے میں کشمیر کی آزادی کو نقصان پہنچا اور بھارت کے حوصلے بلند ہوئے ہیں اور وہ آج پاکستان کے ساتھ کشمیر کے تنازعے پر بات چیت کے لیے تیار نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے کبھی بھی مخلص نہیں رہا بلکہ وہ گزشتہ ساٹھ سالوں سے ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔

 حکومتِ پاکستان یک طرفہ لچک، پسپائی اور معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے کشمیر پر جارحانہ پالیسی اپنائے اور بھارت کے ساتھ طاقت کی زبان میں بات کرے۔نئی حکومت کو مسئلہِ کشمیر کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں مرکز اور محور کشمیر کا تنازعہ ہونا چاہیے
صلاح الدین

سید صلاح الدین نے کہا کہ ’ ہم امن پسند لوگ ہیں اور امن کے عمل کے خواہاں ہیں لیکن ہمیں شہداء کے خون کی قیمت پر امن کا عمل قابل قبول نہیں ہے‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت سے کم کوئی اور حل قابل قبول نہیں اور یہ کہ وہ کشمیر کی بھارت سے آزادی تک اپنی مسلح جدو جہد جاری رکھیں گے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مشروط فائر بندی کے لئے تیار ہیں۔

حزب المجاہدین کے سربراہ نے کہا کہ ’ہم آج بھی بندوق چھوڑنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ بھارت کشمیر کی متنازعہ حثیت تسلیم کرے اور کشمیر کے معاملے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے کے لیے سہ فریقی مذاکرات پر جس میں ہندوستان، پاکستان اور کشمیری شامل ہوں رضامندی ظاہر کرے۔ تاہم اس سے بھی پہلے بھارت کو کشمیری عوام اور عسکریت پسندوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اعتماد سازی کے کچھ اقدامات اٹھانا پڑیں گے‘۔

سید صلاح الدین نے پاکستان کی نئی حکومت سے کہا کہ وہ کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرے۔’حکومتِ پاکستان یک طرفہ لچک، پسپائی اور معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے کشمیر پر جارحانہ پالیسی اپنائے اور بھارت کے ساتھ طاقت کی زبان میں بات کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ نئی حکومت کو مسئلہِ کشمیر کو مرکزی حیثیت دینی چاہیے اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں مرکز اور محور کشمیر کا تنازعہ ہونا چاہیے‘۔

کانفرنس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کشمیر کی آزادی کی تحریک میں کوئی کردار نہیں۔

اس جہاد کانفرنس سے متحدہ جہاد کونسل میں شامل دوسری عسکری تنظیموں کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

یہ سن دو ہزار تین کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس طرح کی جہاد کانفرنس ہوئی جس میں عسکری تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں نئی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد ہوا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس ممکنہ طور پر اس بات کا اشارہ ہے کہ ان عسکری تنظیموں کی سرگرمیوں پر پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی طرف سے عائد کی گئی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔

نائن الیون کے بعد پاکستان نے کئی پاکستانی جہادی تنظیموں پر عائد کی تھی جبکہ کشمیری عسکری تنظیموں کی سرگرمیاں بھی محدود ہوگئی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد