BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یواین اہلکاروں کا اغواءاور بازیابی

طورخم
فائرنگ کا تبادلےکے بعد مسلح افراد یرغمالیوں کو چھوڑ کرفرار ہوگئے
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے اغواء کیے گئے اقوام متحدہ کے دو اہلکاروں کو فائرنگ کے تبادلے کے بعد بازیاب کرالیاگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پیر کی صبح اقوم متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے دو اہلکار پشاور سے گاڑی میں طورخم جارہے تھے کہ خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں نامعلوم مسلح افراد نے انہیں بندوق کی نوک پر گاڑی سمیت اغواء کرلیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیٹکل انتظامیہ کی بھاری نفری نے مسلح افراد کا تعاقب کیا اور پہاڑی علاقے دیہڑی میں انہیں چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیا۔

مقامی لوگوں کا کہناہے کہ خاصہ دار فورس اور اغواء کاروں کے مابین تقریباً ایک گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے بعد مسلح افراد یرغمالیوں کو چھوڑ کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہوگئے۔

مقامی انتظامیہ نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے دونوں بازیاب اہلکار لاجسٹک ڈائریکٹر محمد صادق اور ڈرائیور ظفر کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق اغواء کاروں کے ساتھ جھڑپ میں خاصہ دار فورس کے تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد اور سکیورٹی اہلکار پہاڑی علاقے میں پوزیشنیں سنبھالے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے پرفائرنگ کررہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اس واقع کے بعد مقامی انتظامیہ نےعلاقے میں ایف سی طلب کرکے پاک افغان شاہراہ کئی مقامات پر بند کردی ہے اور اغواء کاروں کی تلاش کےلیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

واضح رہے کہ خیبر ایجنسی میں پاک افغان شاہراہ پر دن دہاڑے اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ایک معمول بن چکا ہے۔ تقریباً دو ماہ قبل اسی شاہراہ پر افغانستان میں متعین پاکستانی سفیر طارق عزیز الدین کو کابل جاتے ہوئے محافظ اور ڈرائیور سمیت اغواء کیا گیا تھا۔ تاحال کسی تنظیم نے سفیر کی اغواء کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس کے علاوہ چند دن قبل مذہبی شدت پسند لشکر اسلام کے سینکڑوں مسلح حامیوں نے کوکی خیل قبیلے کے ظاہرشاہ گروپ کے خلاف کاروائی کی جس میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کاروائی کی وجہ سے پاک افغان شاہراہ کئی روز بند رہی جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

اسی بارے میں
طارق عزیز الدین کی تلاش جاری
13 February, 2008 | پاکستان
پاکستانی سفیر: پیش رفت نہیں
11 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد