BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 February, 2008, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طارق عزیز الدین کی تلاش جاری

لاپتہ پاکستانی سفیر طارق عزیزالدین کو دو سال قبل افغانستان میں تعینات کیا گیا تھا
پاکستان کے سفیر طارق عزیز الدین کی خیبر ایجنسی میں گمشدگی کو تین روز گزر جانے کے باوجود حکام کو ان کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ جبکہ مقامی انتظامیہ نے سفیر کو اغواء کیے جانے کے بعد انہیں خیبر ایجنسی سے متصل اورکزئی ایجنسی کی جانب منتقل کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے تحصیل لنڈی کوتل، جمرود اور باڑہ میں مبینہ ’پیشہ ور‘ اغواء کاروں کے مشکوک ٹھکانوں کی تلاشی کا کام تقریباً مکمل کرلیا ہے جس کے دوران انہیں سفیر طارق عزیزالدین کی خیبر ایجنسی میں موجودگی کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔

اہلکار نے مزید کہا کہ انہیں شک ہے کہ شاید طارق عزیزالدین کو اغواءکاروں نے پر پیچ پہاڑی راستوں کے ذریعے پڑوس میں واقع اورکزئی ایجنسی منتقل کردیا ہو۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے افغانستان کے سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے تاکہ سفیر کو سرحد پار لیجانے کا احتمال نہ رہے۔ تاہم بقول ان کےخیبر ایجسنی میں ان کی تلاش کا کام اب بھی جاری رکھا گیا ہے اور مختلف مقامات پر لیویز اور خاصہ دار فورس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین اتوار کے روز پشاور سے کابل جاتے ہوئے اپنے ایک محافظ اور ڈرائیور کے ہمراہ لاپتہ ہو گئے تھے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ آخری مرتبہ طارق عزیز الدین کو پشاور سے تیس کلو میٹر دور جمرود میں علی مسجد کے قریب دیکھا گیا تھا۔

مقامی انتظامیہ کے اہلکار خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ طارق عزیز الدین کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ تاہم سرکاری سطح پر اس بات کی تصدیق نے کی گئی۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد صادق نےگزشتہ روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ طارق عزیز الدین لاپتہ ہو گئے ہیں اور ان کو تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔

طارق عزیز الدین کے اغواء کی ذمہ داری مقامی طالبان یا افغانستان میں سرگرم طالبان کی طرف قبول نہیں کی گئی ہے۔

طارق عزیز الدین کے اغواء کی واردات پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں کی طرف سے بلوچستان میں طالبان کمانڈر منصور دادا اللہ کی زخمی حالت میں گرفتاری کے بعد ہوئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ طارق عزیز الدین کے عوض طالبان منصور دادا کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دریں اثناء لکی مروت سے لاپتہ ہونے والے تین اہلکاروں کا بھی کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

ڈیر اسماعیل خان سے بی بی سی اردو کے نمائندے دلاور خان وزیر نے پولیس کے ذرائع سے بتایا ہے کہ یہ تینوں اہلکار تین دن قبل لکی مروت کے علاقے پیزو میں شیخ بدین کے پہاڑی سلسلے میں نصب زلزلے کی پیمائش کرنے والے ایک ٹاور کا معائنہ کرنے جا رہے تھے۔
پولیس کے مطابق لاپتہ ہونے والوں میں پاکستان ایٹامک اینرجی کمیشن کے پرنسل ٹیکنیشن ضیاءالدین، جونیئر ٹیکنیشن بیساکھ خان اور ڈارئیور صفدر شامل ہیں۔

ان تینوں اہلکاروں کو اغواء کرنے کی بھی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں
پاکستانی سفیر: پیش رفت نہیں
11 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد