BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 February, 2008, 18:29 GMT 23:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سفیر کا اغواء دوسری بار ہوا‘

طارق عزیزالدین کے اہلِ خانہ اب بھی پشتو اورفارسی دونوں زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں
قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی سے چند روز قبل مبینہ طور پر اغواء کیے جانے والے افغانستان میں پاکستان کے سفیر طارق عزیزالدین دوسری مرتبہ اغوا کیاگیا ہے۔

طارق عزیزالدین کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں تقریباً پندرہ سال قبل اس وقت افغانستان کے دارالحکومت کابل سے باہر بعض مبینہ جرائم پیشہ ، افراد نے چند گھنٹوں کے لیے اغواء کرلیا تھا جب وہ کابل سے سڑک کے راستہ پشاور کی طرف سفر کر رہے تھے۔

انکے بقول اغواء کاروں نے انہیں کچھ دیر کے لیے اپنی تحویل میں رکھا اور بعد میں ذاتی سامان لوٹ کر انہیں واپس رہا کردیا تھا۔ طارق عزیزالدین انیس سو بانوے سے انیس سو چورانوے کے دوران کابل میں واقع پاکستان کے سفارت خانہ میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

اکتیس مئی انیس سو اکیاون میں پشاور میں پیدا ہونے والے طارق عزیزالدین کا تعلق افغانستان کے سدو زئی قبیلہ سے ہے ۔انکے آباؤ اجداد نے اٹھارویں صدی کی ابتداء میں مشرقی افغانستان کے صوبہ قندہار سےہجرت کرکے پشاور میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ انکے خاندان کے افراد اب بھی آپس میں فارسی اور پشتو زبان میں بات کرتے ہیں۔

انکے والد عزیزالدین پاکستانی فوج سے بطور کرنل ریٹائر ہوچکے ہیں جبکہ انکے خاندان کے کئی افراد سول بیوروکریسی اور فوج میں اعلی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

طارق عزیزالدین نے پشاور کے ایڈورڈ کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستانی فوج میں شمولیت اختیار کرلی اور انیس سو پچھتر اورستتر کے دوران صوبہ پنجاب کے وزیراعلی غلام صادق حسین کے اے ڈی سی رہے۔ بعد میں انہوں نے وزارت خارجہ میں ملازمت اختیار کرلی۔

انہوں نے مانچسٹر، قاہرہ، کولا لمپور اور کابل میں واقع پاکستانی سفارت خانوں میں خدمات سرانجام دی ہیں جبکہ وہ انیس سو ستانوے سے سن دوہزار تک لاس اینجلیس میں قونصل جنرل جبکہ دو ہزار ایک سے چار تک بوسنیا میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں۔

سفارتی حلقوں میں انہیں ایک قابل اور زیرک سفارتکار کے طور پر جانا جاتا ہے ۔افغانستان سے ان کے نسلی تعلق، فارسی اور پشتو زبانیں بولنے اور وہاں پر پہلے بھی خدمات کومدنظر رکھتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے انہیں تیرہ دسمبر دوہزار پانچ کو رستم شاہ مہمند کی جگہ کابل میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا تھا۔

انکے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ اکثر اوقات سڑک ہی کے ذریعے افغانستان اور پاکستان کے درمیان سفر کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
پاکستانی سفیر: پیش رفت نہیں
11 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد