ریڈ کراس انٹرنیشل کے دو اہلکار لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی امدادی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے دو اہلکار پاکستان افغانستان سرحد پر لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ ہونے والوں میں صوبہ سرحد کے علاقے کرک کے گلزار اور پشاور کے فضل رحمان شامل ہیں۔ آئی سی آر سی کی ترجمان ستارہ جبین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تنظیم کے دو اہلکاروں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنیچر کو معمول کے مطابق طورخم بارڈر گئے تھے۔ ’وہ کسٹم کے کام سے گئے تھے اور اس کے بعد سے ان کی کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔‘ ستارہ نے کہا کہ یہ معمول کا سفر تھا کیونکہ آئی سی آر سی کا پشاور کا دفتر افغانستان کھانے کی اشیاء بھیجتا ہے اور وہ انہی اشیاء کی کسٹم کلیئرنس کے لیے گئے تھے۔ ’ آئی سی آر سی کو ان کے لاپتہ ہونے پر بہت تشویش ہے اور ان کی سلامتی اور معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔‘ ستارہ جبین سے جب پوچھا گیا کہ آیا کسی نے ان کے اغواء کا دعویٰ کیا ہے تو انہوں نے کہا ’ آئی سی آر سی سے اب تک کسی نے رجوع نہیں کیا ہے اور اس وقت ہمارے تمام آپشنز کھلے ہیں‘۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اہلکاروں کا پتہ لگانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آئی سی آر سی کے پشاور دفتر میں پچھلے سال فروری اور مارچ میں دو بم دھماکے بھی ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں لاپتہ افراد: نواز شریف سے مدد کی اپیل03 February, 2008 | پاکستان فوج ہمیں بھلا نہیں سکتی:یرغمال فوجی11 October, 2007 | پاکستان لاپتہ: حافظ باسط، علیم ناصرکی رہائی21 August, 2007 | پاکستان بندہ پیش کریں ورنہ جیل جائیں:چیف جسٹس20 August, 2007 | پاکستان ’حراست وزیراعظم کے ایما پر ہے‘25 June, 2007 | پاکستان ’حکمرانوں کی بوٹیاں نوچ لوں گی‘21 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس، سماعت ملتوی04 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||