BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘

ڈیوڈ ملی بینڈ اور صوبہ سرحد کے رہنما
برطانوی وزیرِ خارجہ صوبہ سرحد کے وزیرِ اعلیٰ امیر ہوتی، اسفند یار ولی اور افراسیاب خٹک کے ساتھ
برطانوی وزیرخارجہ ڈیوِڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکمت عملی برطانیہ کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ان کے ملک میں دہشتگردی کے خلاف ستّر فی صد تحقیقات کی کڑیاں پاکستان جا کر ملتی ہیں۔

برطانوی وزیرخارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پر گزشتہ روز پشاور پہنچے تھے جہاں انہوں نے صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیر اعلی سمیت دیگر اہم راہنماؤں سے ملاقاتیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تشدد ترک کرنے پر آمادہ ہوں، ان کو قومی دھارے میں شریک کرنا ضروری ہے۔

ملی بینڈ آج پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ کل شام انہوں نے حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور دوسرے اہم راہنماؤں سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔

برطانوی وزیرخارجہ نے پشاور میں اخبار نویسوں کوبتایا کہ انہوں نے سنا ہے کہ حکومت ان لوگوں سے مفاہمت چاہتی ہے جو دہشتگردی کی کارروائیاں ترک کرنا چاہتے ہیں ۔

تاہم انہوں نے کہا کہ مصالحت، تشدد اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہونی چاہیے اور جو لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ان پر نظر رکھنی چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ’ہمارا موقف واضح اور صاف ہے، ہمیں ان لوگوں سے بات چیت کرنی چاہیے جو خود مفاہمت چاہتے ہوں اور جو ایسا نہیں کر سکتے ان سے بات چیت کی ضرورت نہیں‘۔

برطانوی وزیر خارجہ نے صوبہ سرحد میں بم دھماکوں سے متاثرہ خاندانوں کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک خطے میں طویل اور مضبوط بنیادوں پر امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن آپشن پر غور کر رہا ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ دہشتگردی صرف دنیا کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ بھی ہے اور گزشتہ کچھ ماہ کے دوران پاکستان اس سے جس قدر متاثر ہوا ہے اس کا انہیں بخوبی علم ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزیرخارجہ نے سرحد کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سے فرنٹیر ہاؤس پشارو میں ملاقات کی۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک بھی موجود تھے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ نے فرنٹیر ہاؤس پشاور میں صوبہ سرحد میں مختلف خود کش حملوں اور دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے بھی ملاقات کی اور غمزدہ خاندانوں سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

بعد ازاں برطانوی وزیرخارجہ نے گورنر ہاؤس پشاور کا دورہ کیا اور گورنر اویس احمد غنی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک قبائلی جرگہ نے بھی اعلیٰ برطانوی اہلکار کو علاقے کے مسائل سے آگاہ کیا۔

برطانوی وزیرخارجہ کے دورۂ پشاور کے موقع پر شہر میں کوئی غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ تاہم اعلیٰ اہلکار کی پریس کانفرنس کا اہتمام ایک مقامی ہوٹل میں دوپہر تین بجے کیا گیا تھا لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث اخباری کانفرنس وقت سے پہلے شروع کی گئی جس کی وجہ سے کئی صحافی پریس کانفرس میں شرکت نہیں کرسکے۔

شدت پسندحامی یا مخالف
کیا ملا نذیر حکومت کے خلاف تیاری کر رہے ہیں
ایک طالب علمٹانک: جہاد کی تعلیم؟
کیا ٹانک میں بچے اسکول چھوڑ کر جہاد کے لیے نکل رہے ہیں؟
ملا نذیر احمدطالبان کی کارروائی
’ملا نذیر احمد طالبان تحریک سے خارج‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد