BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 04:08 GMT 09:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فاٹا میں کارروائی: فیصلہ مؤخر
افغانستان میں امریکی فوج
امریکی فوج نےپاکستان کے قبائلی شدت پسندوں کی فہرست تیار کی ہے
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ بش انتظامیہ نے امریکی فوج کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آپریشن کرنے کی وقتی طور پر اجازت نہیں دی ہے۔

نیو یارک ٹائمز نےدعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اپنے قبائلی علاقوں میں عرب اور دوسرے غیر ملکی باشندوں کو سرحد پار سے ہلاک کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

امریکہ کے با اثر اخبار نے امریکی حکام کےحوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے امریکی فوج کی اس درخواست کو وقتی طور پر منظور نہیں کیا ہے۔ امریکی حکومت پاکستان کی نئی حکومت کے لیے، جو شدت پسندوں سے بات چیت کا ارادہ رکھتی ہے، حالات خراب نہیں کرنا چاہتی۔

امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی اہلکارروں نے پاکستان کے اندر کارروائی کی تجویز پر کارروائی مؤخر کی ہے اور اسے رد نہیں کیا ہے۔ بش انتظامیہ کے ایک اہلکار نے اخبار سے کہا کہ ’ ہم یقیناً یہ کارروائی کرنا چاہتے ہیں لیکن ابھی نہیں۔‘

شدت پسندوں کی امداد جاری
 اخبار نے امریکی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی کارروائی کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اب بھی کئی مقامی جنگجوؤں کی مستقل بنیادوں پر مالی امداد کرتی ہیں۔
نیو یارک ٹائمز
اخبار نے امریکی اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی کارروائی کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اب بھی کئی مقامی جنگجوؤں کی مستقل بنیادوں پر مالی امداد کرتی ہیں۔

امریکی اہلکاروں کا خیال ہے کہ اس وقت امریکی افواج کی پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر کارروائی سے پاکستان کی جمہوری حکومت امریکہ سے ناراض ہو سکتی ہے اور پاکستان میں امریکہ کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہو گا۔

نیو یارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستانی حکام نے بیت اللہ محسود سمیت پاکستانی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی پر بہت زیادہ قدغنیں لگا رکھی ہیں۔

امریکی خفیہ ایجسنوں کا خیال ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے دہشتگردوں کی ایک ایسی ہی پناہ گاہ بن چکے ہیں جیسے کہ نائن الیون حملوں سے پہلے القاعدہ تنظیم کے لیے افغانستان تھا جہاں سے وہ پوری دنیا میں دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے تھے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکہ کی فوجی قیادت نے افغانستان کے علاقے سے پاکستان کے قبائلی علاقے میں گولہ باری، بغیر پائلٹ طیارے کے ذریعے میزائل داغنے اور پاکستان کے اندر سی آئی اے کے سپیشل آپریشن کی اجازت طلب کی تھی۔

اخبار نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں تعینات ایک امریکی اہلکار نے پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن سےاس فہرست پر تبادلہ خیال کیا ہے جن لوگوں کے خلاف امریکہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

امریکی فوج نے پاکستان میں بیت اللہ محسود کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے اور افغان طالبان جلال الدین حقانی کے بیٹے سراج الدین حقانی کو نشانہ بنانے کی اجازت مانگی تھی۔

پینٹاگون کے ایک مشیر نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں نے پاکستان میں ٹارگٹ کی ایک فہرست تیار کر رکھی ہے اور اس لسٹ سے متعلق امریکی صدر جارج کے انتہائی اعلی مشیر کو بھی بریف کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد