نیٹو: رسد کے متبادل راستے پر معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بخارسٹ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے اختتام پر روس اور نیٹو نے افغانستان میں نیٹو کی فوج کے سامان کی رسد کے لیے متبادل راستہ فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ نیٹو کی ویب سائٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت کھانے کی اشیاء کے علاوہ کچھ جنگی سامان اس متبادل راستے سے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اس معاہدے پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل اور روس کے وزیر خارجہ نے دستخط کیے ہیں۔ اگرچہ نیٹو افواج کے لیے سامان جہاز سے قندھار اور بگرام کے ہوائی اڈوں پر آتا ہے تاہم ان کا انحصار زمینی راستوں پر بھی ہے جو کہ کئی بار قدرے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس معاہدے کو روس اور نیٹو کے ترجمانوں نے ایک اچھی شروعات کہا ہے۔ تاہم نیٹو کے ایک سینئر سفارتکار نے کہا کہ یہ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے لیکن اس کے بغیر بھی کام چل رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق رسد کا یہ راستہ روس، قازقستان اور ازبکستان سے ہوتا ہوا افغانستان سے ملے گا۔ اس کے علاوہ روس کا کہنا ہے کہ یہ راستہ تیار ہے اور نیٹو افواج جب بھی چاہیں اس کو استعمال کر سکتی ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں موجود چالیس ہزار سے زائد نیٹو اور امریکی فوجیوں کے لیے سامان کی رسد کا ایک بڑا راستہ پاکستان ہے۔ | اسی بارے میں جنوبی وزیرستان: امن کاکیا بنے گا20 March, 2008 | پاکستان طالبان سے مفاہمت کہاں تک جائے گی؟03 April, 2008 | پاکستان ’ڈرون حملے امریکہ نے کیے‘03 April, 2008 | پاکستان ’طالبان کو مسلح نہ ہونے دیں‘09 February, 2008 | پاکستان رسد کا متبادل راستہ، ایک چال؟03 April, 2008 | پاکستان وزیراعظم کو چیف کی پہلی بریفنگ02 April, 2008 | پاکستان ’افغان وزیر کا بیان کم علمی کا نتیجہ ہے‘02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||