BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 April, 2008, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹو: رسد کے متبادل راستے پر معاہدہ

پیوٹن اور بش
رسد کا یہ راستہ روس، کزاقستان اور ازبکستان سے ہوتا ہوا افغانستان سے ملے گا
بخارسٹ میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے اختتام پر روس اور نیٹو نے افغانستان میں نیٹو کی فوج کے سامان کی رسد کے لیے متبادل راستہ فراہم کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

نیٹو کی ویب سائٹ کے مطابق اس معاہدے کے تحت کھانے کی اشیاء کے علاوہ کچھ جنگی سامان اس متبادل راستے سے فراہم کیے جا سکتے ہیں۔ اس معاہدے پر نیٹو کے سیکریٹری جنرل اور روس کے وزیر خارجہ نے دستخط کیے ہیں۔

اگرچہ نیٹو افواج کے لیے سامان جہاز سے قندھار اور بگرام کے ہوائی اڈوں پر آتا ہے تاہم ان کا انحصار زمینی راستوں پر بھی ہے جو کہ کئی بار قدرے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔

اس معاہدے کو روس اور نیٹو کے ترجمانوں نے ایک اچھی شروعات کہا ہے۔ تاہم نیٹو کے ایک سینئر سفارتکار نے کہا کہ یہ معاہدہ اہمیت کا حامل ہے لیکن اس کے بغیر بھی کام چل رہا تھا۔

اطلاعات کے مطابق رسد کا یہ راستہ روس، قازقستان اور ازبکستان سے ہوتا ہوا افغانستان سے ملے گا۔ اس کے علاوہ روس کا کہنا ہے کہ یہ راستہ تیار ہے اور نیٹو افواج جب بھی چاہیں اس کو استعمال کر سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں موجود چالیس ہزار سے زائد نیٹو اور امریکی فوجیوں کے لیے سامان کی رسد کا ایک بڑا راستہ پاکستان ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد