BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغان وزیر کا بیان کم علمی کا نتیجہ ہے‘

بغلچور(فائل فوٹو)
جوہری فضلہ ڈیرہ غازی کے قریب بغلچور میں بھی دفن کیا جاتا رہا ہے
پاکستان نے افغانستان کے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ طالبان کے دور حکومت میں پاکستان اپنا ایٹمی فضلہ افغانستان کے بعض علاقوں میں پھینکتا رہا ہے۔

گزشتہ روز افغانستان کے وزیر برائے پارلیمانی امور فاروق وردگ نے دعوٰی کیا تھا کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ طالبان دورِ حکومت میں پاکستان نے اپنا جوہری فضلہ افغانستان میں دفن کیا تھا۔

فاروق وردگ نے کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ یہ فضلہ سنہ 1996 سے سنہ 2001 کے دوران ملک کے جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں دبایا گیا تھا۔

افغان وزیر کے اس بیان پر اپنے ردعمل میں بدھ کے روز وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان محمد صادق نے کہا کہ پاکستان کے تمام نیوکلیئر پاور پلانٹس بین الاقوامی ضابطوں کے تحت کام کرتے ہیں جن میں ان پلانٹس کے فضلے کو ٹھکانے لگانے کا بھی نظام اور طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ایٹمی پلانٹس انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن کے حفاظتی نظام کے تحت ہیں اور یہ ادارہ نہ صرف ان پلانٹس کی کارکردگی بلکہ ان کے فضلے کا بھی حساب کتاب رکھتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ افعان وزیر کا بیان کم علمی کی بنا پر دیا گیا ہے۔ محمد صادق نے کہا کہ ویسے بھی ان پاور پلانٹس کا افغان سرحد سے فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ ایٹمی فضلے کو وہاں تک پہنچانا ہی ممکن نہیں ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ جنرل مائیکل ہیڈن کے اس بیان پر کہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پاک۔افغان سرحدی علاقے میں موجود ہیں، دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس طرح کی باتیں مختلف امریکی عہدیدار پہلے بھی کرتے رہے ہیں اور ہم نے ہمیشہ اسکے ثبوت کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اگر ان اطلاعات میں کوئی صداقت ہے تو کارروائی کی جائے۔

ترجمان نے کہا کہ پاک۔افغان سرحد دو ہزار کلومیٹر سے زائد لمبی ہے اور اس طرح کے بیانات اس وسیع رقبے پر القاعدہ کے راہنماؤوں کے مبینہ ٹھکانوں کی تلاش میں معاون ثابت نہیں ہو سکتے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جہاں تک پاکستانی علاقوں میں ان مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کا تعلق ہے تو اس بارے میں امریکہ کے ساتھ واضح مفاہمت موجود ہے کہ پاکستان علاقوں میں کارروائیاں صرف پاکستانی افواج ہی کر سکیں گی۔ جبکہ افعانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج صرف افعان علاقوں میں کارروائی کی مجاز ہیں۔

محمد صادق نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ قومی مفاد کے لیے لڑ رہا ہے اور پاکستان کی یہ کوششیں کسی بری منصوبہ بندی کے تحت کی گئی ایسی کارروائی کی متحمل نہیں ہو سکتی جو نہ صرف بین القوامی قوانین سے متصادم ہو بلکہ قبائلی علاقوں اور پاکستانی عوام میں بھی انتہائی غیر مقبول ہوں۔ ترجمان کا کہنا تھا اس طرح کا کوئی بھی منصوبہ خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ ہو گا۔

محمد صادق نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ پاکستان اور امریکہ اس بین الاقوامی مہم میں ساتھی ہیں اور ان کے درمیان اس بارے میں اختلاف رائے پائے جانے کا تاثر دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کی کامیابی کے لئے ہمیں ایسے اقدامات کے بارے میں باتیں کرنے کے بجائے باہمی تعاون بہتر بنانے کی کو کوششیں کرنی ہوں گی۔

اسی بارے میں
جوہری فضلہ، سماعت ملتوی
29 March, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد