’پاکستانی جوہری فضلہ افغانستان میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ طالبان دورِ حکومت میں پاکستان نے اپنا جوہری فضلہ افغانستان میں دفن کیا تھا۔ افغانستان کے وزیر برائے پارلیمانی امور فاروق وردگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ فضلہ ملک کے جنوبی صوبوں قندھار اور ہلمند میں دبایا گیا۔ طالبان افغانستان میں سنہ 1996 سے سنہ 2001 تک برسرِاقتدار رہے تھے۔ فاروق وردگ کا کہنا تھا کہ وہ یہ تو نہیں جانتے کہ فضلے کی کتنی مقدار دفن کی گئی اور یہ کہ فضلہ دفن کرنے کا عمل کتنے عرصے جاری رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں ثبوتوں کی نوعیت بھی معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت اس معاملے کی تحقیقات کرنے کےلیے کمیشن تشکیل دے رہی ہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر افغان حکومت اس بارے میں ان سے رابطہ کرتی ہے تو ہی وہ اس معاملے پر تبصرہ کریں گے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق جب تک افغان حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر بیان جاری نہیں کیا جا سکتا وہ اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے۔ ماہرین کے مطابق ایٹمی فضلے کو اس طرح محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جانا چاہیے کہ اس کے تابکاری اثرات مکمل طور پر زائل ہونے تک انسان اور ماحول کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ایٹمی یا جوہری فضلے کو تابکاری کے لحاظ سے عام طور پر تین درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے: ہلکا، درمیانہ اور اونچا (ہائی لیول)۔ جوہری ہتھیار سازی اور ایٹمی بجلی گھروں سے پیدا ہونے والے فضلے کو ماہرین اونچے درجے کی تابکاری کا حامل قرار دیتے ہیں۔ | اسی بارے میں ایٹمی فضلہ تلف کرنا ایک درد سر29 April, 2006 | پاکستان جوہری فضلہ: آزاد انکوائری کا مطالبہ28 April, 2006 | پاکستان تاریکی میں ڈوبا ’ایٹمی‘ علاقہ27 April, 2006 | پاکستان ایٹمی فضلہ ’ڈمپ‘ کرنے پر تشویش26 April, 2006 | پاکستان جوہری فضلہ، سماعت ملتوی29 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||