BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 April, 2008, 15:29 GMT 20:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈرون حملے امریکہ نے کیے‘

باجوڑ(فائل فوٹو)
’پاکستانی مذہبی جماعتیں ان حملوں کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتی رہی ہیں‘
پاکستان کے فوجی ذرائع نے پہلی مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں اب تک کے بغیر پائلٹ طیاروں کے حملے امریکہ ہی کر رہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ امریکہ اپنے ہدف کے بارے میں سو فیصد تسّلی کے بعد ہی حملہ کرے گا تاکہ اس میں عام شہری نہ مارے جائیں۔ فوجی ذرائع نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ یہ کارروائیاں امریکی پاکستان میں جیکب آباد سمیت کسی ہوائی اڈے سے کی جا رہی ہیں۔

جب مسلح افواج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان تفصیلات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔

فوجی ذرائع نے بعض امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کو بھی غلط قرار دیا جن میں پاکستانی فوج پر امریکہ سے ملنے والی فوجی امداد کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

فوجی ذرائع کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً تیس ہزار ہے اور ’ان میں سے ایک فوجی پر امریکہ کا ماہانہ خرچہ اسی ہزار ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں افغان سرحد پر موجود ایک لاکھ بارہ ہزار فوج کے لیے دی جانے والی امریکی امداد اس کے مقابلے میں بہت کم ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اب تک پاکستانy فوج کے ایک ہزار سے زیادہ سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاک شدگان اور زخمی ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کی طویل عرصے تک دیکھ بھال کے اخراجات امریکی امداد سے کافی زیادہ ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق ہیلی کاپٹروں سمیت دیگر جنگی مشینری کو چلتی حالت میں رکھنے کے اخراجات اس سے کے علاوہ ہیں اور پاکستان نے دو خصوصی دستے قائم کیے ہیں جس میں بڑی تعداد میں فوری حرکت کرنے والے بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹر رکھے گئے ہیں۔

News image
 قبائلی علاقوں میں اب تک پاکستان فوج کے ایک ہزار سے زائد سپاہی ہلاک ہو چکے ہیں اور افراد اور زخمی ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کی طویل عرصے تک دیکھ بھال کے اخراجات امریکی امداد سے کافی زیادہ ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج توقع کر رہی ہے کہ ملک میں نئی حکومت کے قیام کے بعد قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف جاری کارروائیوں میں اس سیاسی عمل کی کمی پوری ہو جائے گی جسے ماضی میں نظرانداز کیا گیا۔

اعلٰی فوجی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج قبائلی شدت پسندوں کی سرحد پار جہاد جاری رکھنے اور مہمان کو تحفظ دینے کی شرائط کا توڑ تلاش کرنا ہوگا۔ نئی حکومت کے پاس اس وقت دو ہی راستے بتائے جا رہے ہیں وہ یا تو قبائلیوں کو ’جہاد‘ اور ’مہمان نوازی‘ سے بات چیت یا طاقت کے ذریعے روکنے پر آمادہ کرے یا پھر دوسری جانب منہ کر لے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی خدشات صرف امریکی اخبارات کی حد تک محدود ہیں اور امریکی اہلکاروں کو بریفنگ کے ذریعے مکمل طور پر مطمئن کیا جاتا ہے۔ اس بابت فوجی ذرائع نے امریکی سینٹر جوزف بائڈن کی مثال دی جنہوں نے واپس امریکہ جا کر پاکستان کے لیے امداد میں تین گنا اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکی فوجی امداد ذرائع کے مطابق براہ راست فوج کے پاس نہیں آتی۔ ’یہ وزارت خزانہ کے پاس آتی ہے جو اسے وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی فرنٹیئر کور اور وزارت دفاع کے ذریعے فوج کو بھیجتی ہے‘۔

فوجی ذرائع نے گزشتہ دنوں بیت اللہ محسود کے ایک قریبی ساتھی کی بیس سیکورٹی اہلکاروں کی رہائی کے بارے میں کہا کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے تاہم اس بارے میں وہ زیادہ معلومات نہیں رکھتے۔ تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ بیت اللہ محسود سے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور قبائلی علاقوں میں حالیہ دنوں میں پرامن حالات ان سے کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
القاعدہ کے اہم رہنما ہلاک
31 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد