کراچی کا ڈاکٹر وانا میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کور کمانڈر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیے جانے والے ڈاکٹر وحید ارشد جنوبی وزیرستان میں سولہ مارچ کو ہونے والے میزائل حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کےمطابق سولہ مارچ کو پاکستان کی سرحد سے باہر سے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں ایک داغے جانے والے میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ لوگوں پاکستان ڈاکٹر وحید ارشد بھی شامل تھے۔ مقامی لوگوں نے حملے کے روز بی بی سی کو بتایا تھا کہ میزائل کا نشانہ بننے والے گھر میں غیر ملکی جنگجو مکین تھے جن کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی رہائش پذیر تھا جو زخمیوں کا علاج کرتا تھا۔ ڈاکٹر ارشد وحید کی ماں نے بیٹے کی ہلاکت کی خبر پر لاعملی کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر ارشد وحید کے بھائی اسامہ وحید نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا کئی مہینوں سے بھائی سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور وہ اپنے خاندان کو کراچی سے اسلام آباد لے کرگئے تھے۔ سن دو ہزار چار میں کور کمانڈر کراچی پر حملے کے الزام میں ڈاکٹر وحید ارشد اور ان کے بھائی اکمل ارشد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ کور کمانڈر کراچی پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔ اس حملے میں سات فوجی، تین پولیس اہلکار اور ایک راہگیر ہلاک ہو گیا تھے۔ ڈآکٹروحید ارشد اور ان کے بھائی کو کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے شہادتوں کی کمی کی وجہ سے چھوڑ دیاگیا تھا لیکن ان پر ممنوعہ تنظیم کی مالی مدد کا الزام عائد کیا گیا جس کے تحت ان کو سزا ملی۔ ڈاکٹر وحید ارشد اور ان کے بھائی سات سال جیل میں رہنے کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر رہا ہوئے۔ ڈاکٹر وحید ارشد کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو صرف اتنا پتہ ہے کہ ان کے بھائی اسلام آباد گئے تھے لیکن انہیں معلوم نہیں کہ وہ وانا کیسے پہنچے۔ | اسی بارے میں کورکمانڈر پر حملہ: ملزمان پر فردِ جرم23 September, 2004 | پاکستان پولیس مقابلہ ، زخمی ملزم ہلاک03 February, 2008 | پاکستان وانا میزائل حملے میں اٹھارہ ہلاک16 March, 2008 | پاکستان بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||