BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 February, 2008, 14:05 GMT 19:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس مقابلہ ، زخمی ملزم ہلاک

ملزمان کے خاکے (فائل فوٹو)
کور کمانڈر پر حملے کے جاری کیے جانے والے ملزمان کے خاکے
کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا جانے والا جنداللہ نامی تنظیم کا ایک زخمی رکن اور کور کمانڈر حملہ کیس کا مشتبہ حملہ آور، پولیس حراست میں اتوار کی صبح دم توڑگیا۔

ملزم طیب داد کوگزشتہ منگل کو تین ساتھیوں سمیت ایک مبینہ پولیس مقابلے کے بعد لانڈھی سےگرفتار کیا گیا تھا۔

انتیس جنوری کو جنداللہ کے ارکان سے مبینہ پولیس مقابلے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ اس تصادم میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

جناح ہسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق ملزم طیب داد کے زخم گہرے تھے اور اس کا ایک ہاتھ اور سینہ بری طرح متاثر تھے۔ پولیس کے مطابق طیب داد کے ہاتھ میں ہینڈ گرینیڈ پھٹنے سے زخمی ہوا تھا جب کہ اس کے پاس سے چار مزید گرینیڈ برآمد بھی ہوئے تھے۔ وہ اتوار کی صبح سواگیارہ بجے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔

پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد پولیس کے برطرف سپاہی قاسم طوری، عابد، دانش اور طیب داد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ طیب اور عابد کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے بعد جناح ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

سی آئی ڈی کے ریکارڈ کے مطابق طیب داد کراچی کا رہائشی ہے اور گریجویٹ ہے۔

کور کمانڈر پر حملے میں مطلوب
 کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتارشدہ قاسم طوری اور طیب داد کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے میں مطلوب تھے۔ دونوں کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ رپے انعام بھی رکھا گیا تھا
نیاز صدیقی

کراچی پولیس کے سربراہ نیاز صدیقی کا کہنا ہے کہ گرفتارشدہ قاسم طوری اور طیب داد کور کمانڈر پر حملے کے مقدمے میں مطلوب تھے۔ دونوں کی گرفتاری پر پانچ پانچ لاکھ رپے انعام بھی رکھا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ منگل کو چار گھنٹے جاری رہنے والے مبینہ پولیس مقابلے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد کراچی پولیس کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں کور کمانڈر حملہ کیس کے مفرور ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے اور جائے وقوعہ سے بھاری اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد