رسد کا متبادل راستہ، ایک چال؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سفارتی ماہرین کے خیال میں روس کی نیٹو کو افغانستان میں اس کے فوجیوں کے لیئے سامان کی رسد کے لیئے متبادل راستہ فراہم کرنے کی تجویز دینا عالمی سیاست میں اپنے کردار کو دوبارہ اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی نکتہ نظر سے اس تجویز کی منظوری کا امکان کم ہے لیکن اس کا پس منظر معاشی سے زیادہ سیاسی ہے۔ انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ کی ایک خبر کے مطابق رومانیہ میں ہونے والے نتٹو سربراہی اجلاس میں روس افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کو سامان کی رسد کا متبادل راستہ فراہم کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔ اس وقت افغانستان میں موجود چالیس ہزار سے زائد نیٹو اور امریکی فوجیوں کو سامان کی رسد کا پاکستان ایک بڑا راستہ ہے۔ سابق سیکرٹری خارجہ تنویر احمد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے روس کو اقتصادی اہمیت اور آزادی ملی ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ متحرک ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی دوسری وجہ نیٹو کی مشرق کی جانب پیش قدمی اور پھیلاؤ سے روس کی خدشات ہیں شکایات ہیں۔ صدر بش یوکرین اور جارجیا کی نیٹو میں شمولیت کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن روس واضح کرچکا ہے کہ یوکرین کی جانب سے اس اقدام کی وہ مخالفت کرے گا۔ ان کا کہنا ’خدشہ ہے کہ اس سے ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔‘ تنویر احمد خان کا کہنا ہے کہ روس کی یہ تجویز شطرنج کے اس کھیل کی ایک چال ہے جس کے ذریعے وہ کچھ دو کچھ لو کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کے ایک اور سابق سفیر مشتاق احمد مہر کہتے ہیں کہ اس تجویز کی ایک وجہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر روس کی تشویش بھی ہے۔ ’روس کو خطرہ ہے کہ امریکہ اور نیٹو بعد میں پاکستان میں مہیا سہولتوں کو اس کے خلاف استعمال کرسکتے ہیں۔‘ ’ انہوں نے کہا کہ نیٹو کی سٹوریج یہاں پر ہوتی ہے، نیٹو کا انفراسٹرکچر ہے، سہولیات ہیں، ہم اسے فروغ دینا چاہ رہے ہیں۔ اسے فروغ دینے سے ہماری فوج اور خاص طور پر ہمارے سٹریٹجک اثاثوں کو بڑی تقویت ملتی ہے۔ حالانکہ وسطی ایشیا ان کے لیئے کوئی زیادہ قابل عمل نہیں ہے لیکن اس تجویز کے ذریعے روس پاکستان کے اس اتحاد کے ساتھ روابط میں روکاوٹ ڈالنا چاہتا ہے۔‘ مشتاق مہر کا ماننا تھا کہ روس کی اس تجویز میں کوئی اقتصادی سوچ شامل نہیں ہے۔ ’کمیونسٹ ممالک میں ٹیکس دینے والوں کا تو کوئی دباؤ نہیں ہوتا لہذا یہ ممالک بعض اوقات اپنے سیاسی مفاد میں ایسے فیصلے بھی کرتے ہیں جن سے معاشی فائدہ نہیں ہوتا۔‘ روس کی افغانستان سے کوئی سرحد بھی نہیں ملتی۔ اس تجویز کی منظوری کی صورت میں روس کو وسطی ایشیائی ممالک سے بات کرنا پڑے گا۔ تنویر احمد خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ان کی قیمت بھی اٹھانا ہوگی۔ ’اس تجویز پر کسی آناً فاناً فیصلے کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔‘ تنویر احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر روسی تجویز منظور ہوتی بھی ہے تو اس کا پاکستان پر کوئی زیادہ اثر نہیں ہوگا کیونکہ خفیہ معلومات کے لیئے نیٹو اور امریکہ کا انحصار پاکستان پر رہے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تجویز کی وجہ پاکستان میں گزشتہ ایک ڈیڑھ برس سے سیاسی اور سکیورٹی کی خراب حالت ہوسکتی ہے۔ خود امریکہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس تجویز کے حق میں کوئی زیادہ نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ روس کو اس علاقے میں کوئی اہم جگہ دے۔ پاکستان سے افغانستان سامان رسد کی ترسیل میں اکا دوکا مسائل سامنے آئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسا بڑا واقع نہیں ہوا جس سے یہ ترسیل رک گئی ہو۔ | اسی بارے میں خود کش حملہ، دو نیٹو فوجی ہلاک04 March, 2008 | آس پاس افغانستان: نیٹو کے دو فوجی ہلاک27 February, 2008 | آس پاس ’افغانستان میں ہار کے متحمل نہیں‘02 April, 2008 | آس پاس ’نیٹو میں کوئی بحران نہیں‘08 February, 2008 | آس پاس نیٹو اجلاس میں وزراء کی مشکلات24 October, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||