’افغانستان میں ہار کے متحمل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے نیٹو اتحادیوں سے افغانستان مزید فوجی بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے رومانیہ میں نیٹو کے اجلاس شروع ہونے سے قبل کہی۔ صدر بش نے رومانیہ کے شہر بخارسٹ میں کہا کہ ’ہم افغانستان میں ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔ ہمیں ضرور جیتنا ہے‘۔ رومانیہ اور فرانس مزید فوجی افغانستان بھیج رہے ہیں اور صدر بش نے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ بھی حصہ لیں۔ بدھ سے شروع ہونے والے اجلاس میں نیٹو اتحادی چاہتے ہیں کہ واضح پیغام دیا جائے کہ افغانستان میں فوجیں اس وقت تک رہیں گی جب تک ضروری سمجھا جائے۔ امریکی صدر بش نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کا ’دائرۂ آزادی‘ وسیع کرنے کی ضروت ہے اور اس سلسلے میں بلقان ریاستوں کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا نیٹو اجلاس البانیہ، کروشیا اور مقدونیہ کو نیٹو میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ اجلاس سے پہلے ایک اہم پیغام میں امریکی صدر نے کہا ’جیسا کہ فرانسیسی صدر سرکوزی نے پچھلے ہفتے لندن میں کہا تھا کہ ہم افغانستان میں ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، جتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو، ہمیں جیتنا ضرور ہے۔اگر ہم دہشت گردوں کو افغانستان میں شکست نہ دے سکے تو ہمیں ان کا سامنا اپنے ملک میں کرنا پڑے گا۔‘ | اسی بارے میں مذاکرات پیشکش نامنظور: طالبان24 March, 2008 | آس پاس ’نیٹو میں کوئی بحران نہیں‘08 February, 2008 | آس پاس امریکی مؤقف پر نیٹو اتحادی حیران02 February, 2008 | آس پاس جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس افغانستان:’ لائحہ عمل بدلنا ہوگا‘31 January, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||