BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’افغانستان میں ہار کے متحمل نہیں‘
صدر بش
نیٹو افغانستان میں ہارنے کا متحمل نہیں: بش
امریکی صدر جارج بش نے نیٹو اتحادیوں سے افغانستان مزید فوجی بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بات انہوں نے رومانیہ میں نیٹو کے اجلاس شروع ہونے سے قبل کہی۔

صدر بش نے رومانیہ کے شہر بخارسٹ میں کہا کہ ’ہم افغانستان میں ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔۔۔ ہمیں ضرور جیتنا ہے‘۔

رومانیہ اور فرانس مزید فوجی افغانستان بھیج رہے ہیں اور صدر بش نے دیگر ممالک سے کہا ہے کہ وہ بھی حصہ لیں۔

بدھ سے شروع ہونے والے اجلاس میں نیٹو اتحادی چاہتے ہیں کہ واضح پیغام دیا جائے کہ افغانستان میں فوجیں اس وقت تک رہیں گی جب تک ضروری سمجھا جائے۔

امریکی صدر بش نے یہ بھی کہا کہ نیٹو کا ’دائرۂ آزادی‘ وسیع کرنے کی ضروت ہے اور اس سلسلے میں بلقان ریاستوں کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا نیٹو اجلاس البانیہ، کروشیا اور مقدونیہ کو نیٹو میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔

اجلاس سے پہلے ایک اہم پیغام میں امریکی صدر نے کہا ’جیسا کہ فرانسیسی صدر سرکوزی نے پچھلے ہفتے لندن میں کہا تھا کہ ہم افغانستان میں ہارنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، جتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو، ہمیں جیتنا ضرور ہے۔اگر ہم دہشت گردوں کو افغانستان میں شکست نہ دے سکے تو ہمیں ان کا سامنا اپنے ملک میں کرنا پڑے گا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد