مذاکرات پیشکش نامنظور: طالبان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کے ایک کمانڈر نے ہلمند کے گورنر کی طرف سے بات چیت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ طالبان کمانڈر ملا عبد الرحیم نے کہا کہ امن مذاکرات کی پیشکش بے مقصد ہے کیونکہ حکومت صدر حامد کرزئی کے حامیوں اور شمالی اتحاد میں بٹی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی اتحاد طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ طالبان کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان با مقصد مذاکرات کے حق میں ہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان حمید زادہ ہمایوں نے کہا ہے کہ حکومت دو حصوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے اور شمالی اتحاد طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالف نہیں ہے۔ ہلمند کے گورنر گلاب منگل کا کہنا ہے کہ انہوں نےطالبان کو امن مذاکرات کرنے کی پیشکش حامد کرزئی کی درخواست پر کی ہے۔ گلاب منگل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہلمند کی گورنری کو ایک بڑا چیلنج سمجھ کر قبول کیا ہے۔ صوبہ ہلمند طالبان کی کارروائیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں برطانوی فوجیوں کو آئے روز طالبان کے ساتھ لڑائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گلاب منگل کا کہنا ہے کہ وہ قبائلی عمائدین کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے تاکہ ان کو قائل کر سکیں کہ وہ حکومت کی مخالفت کرنے کی بجائے ان کی حمایت کریں۔ گلاب منگل افغانستان کےایک کامیاب گورنر تصور کیے جاتے ہیں اور انہیں نیٹو کی سربراہی میں کام کرنے والی فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔ منگل ہلمند صوبہ کے گورنر تعینات کیے جانے سے پہلے لغمان اور پکتیا کے گورنر رہ چکے ہیں اور انہیں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کا بہترین گورنر گرادنا جاتا ہے۔ | اسی بارے میں طالبان کو شامل کرنا پڑے گا: برطانیہ25 September, 2007 | آس پاس طالبان کا کرزئی سے مذاکرات سے انکار30 September, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ: دو طالبان رہنماء گرفتار10 December, 2007 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس برطانیہ افغانستان تعلقات، دو دھاری تلوار07 February, 2008 | آس پاس کرزئی فوج کے لیے امداد کے خواہاں 11 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں08 December, 2007 | آس پاس افغانستان: رات کوموبائل فون بند12 March, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||