BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 December, 2007, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرزئی فوج کے لیے امداد کے خواہاں
حامد کرزئی (فائل فوٹو)
صدر کرزئی جبری بھرتی کے مطالبے کو مسترد کر چکے ہيں
افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اپنی افواج بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری سے مزید مدد کی ضرورت ہے۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ افغان فوج دو لاکھ فوجیوں پر مشتمل ہونی چاہیے تاہم کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کے لیے بین لاقوامی حمایت ملتی نہيں دکھائی دی رہی۔

سنہ دو ہزار ایک میں بین الاقوامی برادری نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ وہ ستر ہزار افغان فوج کے لیے فنڈ مہیا کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق یہ ہدف جلد ہی پورا ہوجائے گا اور سبھی افغان فوجی امریکی ساخت کی ایم 16 رائفل سے مسلح ہوں گے۔ افغان فوج کو عالمی معیار کے ہیلی کاپٹر اور ٹینک بھی غیر ممالک فراہم کریں گے۔

افغان حکومت کو صرف طالبان کو کچلنے کے لیے ہی ایک بڑی فوج نہیں چاہیے بلکہ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو خطے میں ایک موثر اور مستحکم فوج کے طور پر پیر جما سکے کیونکہ ایک طرف مشرق میں پاکستان میں عدم استحکام سے اسے خطرہ لاحق ہے تو دوسری جانب مغرب میں ایران کے پاس ساڑھے تین لاکھ فوج موجود ہے۔

انیس سو اسی کے عشرے میں سویت حمایت یافتہ فوج کے سابقہ افسر اور انسداد منشیات کے افغان وزير جنرل خدادا سمیت بعض وزراء کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوج کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جبری بھرتی ہی ایک راستہ ہے جو ملک کی فوجی شناخت پیدا کرنے اور دفاعی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم صدر کرزئی اس مطالبے کو مسترد کر چکے ہيں۔

موسی قلعہ(فائل فوٹو)
افغان فوج دو لاکھ فوجیوں پر مشتمل ہونی چاہیے:وزارتِ دفاع

حامد کرزئی کا بیان ایک ایسے وقت میں آيا ہے جب نیٹو کی فوج نے ملک کے جنوبی صوبہ ہلمند کے شہر موسیٰ قلعہ کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔موسیٰ قلعہ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کا واحد قابل ذکر شہر تھا۔اس وقت امریکہ اور برطانیہ کی افواج شہر میں ہیں اور اسے پوری طرح سے طالبان سے محفوظ کرنے میں مصروف ہیں۔

نیٹو افواج کو خدشہ ہے کہ طالبان نے شہر میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے بعض مکانات پر بم نصب کر رکھے ہوں۔ اس لیے شہر پر قبضے کے باوجود اتحادی افواج نے لڑائی کے خاتمے کا اعلان نہيں کیا ہے۔

اس سال فروری میں طالبان نے دوبارہ شہر پر قبضہ کر لیا تھا جبکہ ایک متنازعہ معاہدے کے تحت برطانوی افواج کے انخلاء کے بعد شہر کے تحفظ کا ذمہ قبائلی سرداروں کو دینے کی بات کی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد