کرزئی فوج کے لیے امداد کے خواہاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ افغانستان کو اپنی افواج بہتر بنانے کے لیے بین الاقوامی برادری سے مزید مدد کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی وزارت دفاع نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ افغان فوج دو لاکھ فوجیوں پر مشتمل ہونی چاہیے تاہم کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لوئن کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کے لیے بین لاقوامی حمایت ملتی نہيں دکھائی دی رہی۔ سنہ دو ہزار ایک میں بین الاقوامی برادری نے اس بات سے اتفاق کیا تھا کہ وہ ستر ہزار افغان فوج کے لیے فنڈ مہیا کرے گی۔ اطلاعات کے مطابق یہ ہدف جلد ہی پورا ہوجائے گا اور سبھی افغان فوجی امریکی ساخت کی ایم 16 رائفل سے مسلح ہوں گے۔ افغان فوج کو عالمی معیار کے ہیلی کاپٹر اور ٹینک بھی غیر ممالک فراہم کریں گے۔ افغان حکومت کو صرف طالبان کو کچلنے کے لیے ہی ایک بڑی فوج نہیں چاہیے بلکہ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ خود کو خطے میں ایک موثر اور مستحکم فوج کے طور پر پیر جما سکے کیونکہ ایک طرف مشرق میں پاکستان میں عدم استحکام سے اسے خطرہ لاحق ہے تو دوسری جانب مغرب میں ایران کے پاس ساڑھے تین لاکھ فوج موجود ہے۔ انیس سو اسی کے عشرے میں سویت حمایت یافتہ فوج کے سابقہ افسر اور انسداد منشیات کے افغان وزير جنرل خدادا سمیت بعض وزراء کا کہنا ہے کہ افغانستان میں فوج کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جبری بھرتی ہی ایک راستہ ہے جو ملک کی فوجی شناخت پیدا کرنے اور دفاعی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ تاہم صدر کرزئی اس مطالبے کو مسترد کر چکے ہيں۔
حامد کرزئی کا بیان ایک ایسے وقت میں آيا ہے جب نیٹو کی فوج نے ملک کے جنوبی صوبہ ہلمند کے شہر موسیٰ قلعہ کو طالبان کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے۔موسیٰ قلعہ طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کا واحد قابل ذکر شہر تھا۔اس وقت امریکہ اور برطانیہ کی افواج شہر میں ہیں اور اسے پوری طرح سے طالبان سے محفوظ کرنے میں مصروف ہیں۔ نیٹو افواج کو خدشہ ہے کہ طالبان نے شہر میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے بعض مکانات پر بم نصب کر رکھے ہوں۔ اس لیے شہر پر قبضے کے باوجود اتحادی افواج نے لڑائی کے خاتمے کا اعلان نہيں کیا ہے۔ اس سال فروری میں طالبان نے دوبارہ شہر پر قبضہ کر لیا تھا جبکہ ایک متنازعہ معاہدے کے تحت برطانوی افواج کے انخلاء کے بعد شہر کے تحفظ کا ذمہ قبائلی سرداروں کو دینے کی بات کی گئی تھی۔ | اسی بارے میں موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ ختم11 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ: دو طالبان رہنماء گرفتار10 December, 2007 | آس پاس موسیٰ قلعہ پر کنٹرول کی کوششیں08 December, 2007 | آس پاس ُموسٰی قلعہ میں فوجی آپریشن جاری04 December, 2007 | آس پاس چالیس طالبان کی ہلاکت کا دعوٰی01 September, 2007 | آس پاس موسٰی قلعہ پر بات چیت نہیں: طالبان06 February, 2007 | آس پاس طالبان سے قبضہ چھڑانے کی تیاری03 February, 2007 | آس پاس طالبان کا قبضہ اور حکومتی تردید02 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||