’نیٹو میں کوئی بحران نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے افغانستان میں اپنی کارروائی کے حوالے سے بحران کی بحث کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اتحاد نے وہاں اچھی پیش رفت کی ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ لیتھوینیا میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں یورپی نمائندوں سے جو کچھ سنا ہے وہ حوصلہ افزاء ہے۔اس اجلاس میں افغانستان میں اتحادی ممالک کی جانب سے مزید فوج بھیجنے کے معاملے پر بات ہوئی۔ لیکن یکجہتی کے اس مظاہرے کے باوجود نیٹو اتحاد کے کسی رکن ملک نے بھی افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا وعدہ نہیں کیا۔ اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں نیٹو ممالک کی کارروائیوں اور اس تناظر میں کشیدگی کی خبروں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ افغانستان کے دورے پر آئی ہوئی امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے مذاکرات کے بعد، حامد کرزئی نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے طالبان کے خلاف جنگ میں برطانوی امداد پر نکتہ چینی کی ہے۔
نیٹو کے اتحادی ممالک میں ان کے اس بیان کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے کہ برطانیہ کی کوششوں کے باوجود ہیلمند کے صوبے میں حالات خراب تر ہوئے ہیں۔ انہوں نے افغانستان میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے برطانوی امیدوار پیڈی ایشڈاؤن کی تقرری کو بھی مسترد کیا تھا۔ برطانوی وزیرِ دفاع نے کہا کہ طالبان کو شکست ہو رہی ہے لیکن یہ ایک طویل المدت کام ہے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا اگرچہ کامیابی مکمل نہیں ہوئی لیکن معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیتھوینیا میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کا اصرار تھا کہ نیٹو کی سربراہی میں افغانستان میں موجود فوج ایساف ناکام نہیں ہو رہی اور یہ کہ اتحاد کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ ان مذاکرات کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل جیپ ڈی ہوپ شیفر نے کہا کہ افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں سے انہیں کافی حوصلہ ملا ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ اس بحث کو ضرورت سے زیادہ معانی پہنائے گئے ہیں کہ آیا نیٹو کے اتحادی ممالک جنوبی افغانستان میں مزید فوج بھیج رہے ہیں یا نہیں۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کا کوئی بحران ہے یا نیٹو کی ناکامی کا کوئی خطرہ ہے‘۔
بدھ کو رابرٹ گیٹس نے خبرادار کیا تھا کہ افغانستان کے جنوب میں نیٹو اتحادیوں کی طرف سے مزید فوج بھیجنے کےمعاملے پر پس و پیش سے اتحاد کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد کے دو صفوں میں تقسیم ہو جانے کا خطرہ ہے۔ رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا: ’مجھے نیٹو اتحاد کے بارے میں بہت فکر ہے کہ کہیں یہ دو صفوں والا اتحاد نہ بن جائے جس میں ایک طرف کے اتحادی لوگوں کی حفاظت کے لیے لڑنے اور جان دینے پر رضا مند ہوں اور دوسری طرف کے اتحادی ایسا نہ کریں‘۔ افغانستان کے جنوب میں نیٹو کے تحت لڑائی میں زیادہ تر امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور نیدرلینڈ کے فوجی شامل ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب جرمنی نے کہا ہے کہ وہ شمالی افغانستان میں دو سو فوجی بھیجے گا۔جرمنی کے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ جرمن فوجی اگلے چند ماہ میں مزارِ شریف میں بھیجے جائیں گے لیکن کسی ہنگامی حالت میں انہیں کہیں بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی حکومت نے یورپی ممالک کو خطوط لکھے تھے اور انہیں کہا تھا کہ وہ جنوبی افغانستان میں اپنے فوجی بھیجیں۔’تاہم جرمنی کے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا: میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم نے اپنی ذمہ داریاں شمال سے جنوب کی طرف مرکوز کر دیں تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہوگی‘۔ | اسی بارے میں جرمنی: مزید فوج بھیجنے سے انکار02 February, 2008 | آس پاس افغانستان کے لیے مزید فوج کا مطالبہ01 February, 2008 | آس پاس ’نیٹو افغان جنگ ہار بھی سکتی ہے‘19 January, 2008 | آس پاس افغانستان: سردی سے200 ہلاک18 January, 2008 | آس پاس پوست کی جڑیں عدم تحفظ و بدعنوانی24 January, 2008 | آس پاس ہلمند حملہ، نائب گورنر ہلاک31 January, 2008 | آس پاس ’یقین دلاتا ہوں صحافی کے ساتھ انصاف ہوگا‘31 January, 2008 | آس پاس کابل میں خودکش حملہ31 January, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||