وزیراعظم کو چیف کی پہلی بریفنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈائریکٹر آپریشنز میجر جنرل شجاع نے بدھ کو وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ملکی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری لڑائی کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم ہاؤس میں بریفنگ کا اہتمام ایک طویل عرصے کے بعد کیا گیا تھا۔ وزیراعظم ہاؤس میں دی گئی اس بریفنگ میں بالخصوص قبائلی علاقوں اور پاک افغان سرحد کے قریب جاری کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس کے دوران آرمی چیف نے وزیراعظم اور شرکاء کو ملکی سلامتی اور عالمی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے بارے میں آگاہ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل شجاع نے سوات اور دیگر علاقوں میں انتہا پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشنز کے بارے میں اس اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ واضح رہے کہ سابق دورِ حکومت میں فوج نے سوات اور دیگر علاقوں میں جو آپریشن شروع کیا تھا اس کی نگرانی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کر رہے تھے۔
اس بریفنگ کے دوران امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے اس بیان کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے قریب ایسے افراد کو حملوں کی تربیت دی جا رہی ہے جو یورپی ملکوں کے باشندوں سے مشابہت رکھتے ہوں اور انتہا پسندوں کے ان ٹھکانوں پر حملہ کرنا امریکہ کے مفاد ہیں ہے۔ امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ اگر مستقبل میں امریکہ اور یورپی ممالک پر کوئی حملہ ہوا تو اسی علاقے سے ہوگا۔ واضح رہے کہ وزیر دفاع احمد مختار نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کو اپنی حدود میں کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل ندیم اعجاز نے قائدین کو قبائلی علاقوں میں چھپے ہوئے انتہا پسندوں اور ملک میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنے کے بارے میں بریف کیا۔ اجلاس کے دوران اسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمن نے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کو ختم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وہاں شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں۔ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف اور صدر میاں شہباز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی، جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے علاوہ وزیر دفاع چوہدری احمد مختار، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعطم کے مشیر رحمان ملک، ریاستوں اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر نجم الدین خان اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمود علی درانی بھی موجود تھے۔ اجلاس کے بعد آرمی چیف کی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی خبریں آئی ہیں۔ اس ضمن میں جب صدر کے ترجمان میجر جنرل ریٹائرڈ راشد قریشی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ | اسی بارے میں 72 فوجی سول محکموں سے واپس28 March, 2008 | پاکستان ’مشرف کی پالیسی نہ دہرائیں تو تعاون‘29 March, 2008 | پاکستان وزیرستان: اسّی دن بعد شاہراہ کھل گئی02 April, 2008 | پاکستان جنرل کیانی کے بیان کا خیر مقدم07 March, 2008 | پاکستان تنازعوں میں نہ گھسیٹا جائے: کیانی06 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||