وزیرستان:80 دن بعد شاہراہ کھل گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کو ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی اہم شاہراہ کو 80 دن کی بندش کے بعد کھول دیا گیا ہے۔ تاہم علاقہ محسود میں فوجی آپریشن کے بعد وہاں سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی واپسی ابھی شروع نہیں ہوئی ہے اور علاقے میں بعض سڑکیں بدستور بند ہیں۔ جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کے مطابق حکومت نے شاہراہ کھولنے کا فیصلہ عام لوگوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر کیا ہے اور مقامی طالبان سے اس سلسلے میں مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق جنڈولہ مکین شاہراہ بدستور بند ہے جبکہ ٹانک وانا اور وانا مکین شاہراہ کھول دی گئی ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے سینیٹر صالح شاہ محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ سڑکیں کھولنے کا ابھی مکمل فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ فی الحال ٹانک وانا اور وانا مکین شاہراہ کو صرف تین دن کے لیے کھولا گیا ہے۔ انہوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل افسر شائستہ خان کے حوالے سے بتایا کہ تین دن کے بعد سڑکیں کھولنے یا نہ کھولنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان خفیہ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے تو تمام راستے کھولے جانے کی امید ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق خفیہ مذاکرات کے دوران طالبان کے کمانڈر بیت اللہ محسود کے ایک اہم ساتھی رئیس خان کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔ رئیس خان کو چھ مہینے پہلے ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جنوری دو ہزار آٹھ میں جنوبی وزیرستان کے علاقہ محسود میں فوج نے بیت اللہ محسود کے خلاف ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس کی وجہ سے ہزارہا لوگ نقل مکانی کرکے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوگئے اور علاقے سے ملنے والے تمام راستوں کو ہر قسم کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ٹانک: ’مشکوک‘ شخص کو گولی31 March, 2008 | پاکستان وزیرستان: قیامِ امن کے لیے جرگہ22 March, 2008 | پاکستان صرف شرعی قانون قابل قبول: طالبان30 March, 2008 | پاکستان شریعت کے نفاذ کا مطالبہ30 March, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||