BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 March, 2008, 20:25 GMT 01:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شریعت کے نفاذ کا مطالبہ

باجوڑ میں ایک عوامی جلسے میں شرعی عدالتوں اور روائیتی جرگہ نظام رائج کرنے کا مطالبہ کیا گیا
پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں مقامی طالبان نے متنازعہ قبائلی قانون ایف سی ار کے خاتمے کے حکومتی فیصلے کے بعد وہاں شرعی عدالت اور قبائلی جرگے کا نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی کے عنایت کلئے میں تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ کے امیر مولانا فقیر محمد، مرکزی ترجمان مولوی عمر، نائب امیر باجوڑ مو لانا شیر بہادر، مولانا منیر، مولانا عبد اللہ، ڈاکٹر محمد اسماعیل، قاری غلام سید اور مولانا سلیم نے ایک عوامی جلئسہ عام سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم یوسف رضاءگیلانی کی مذاکرات کی پیشکش کا خیرمقد م کرتے ہیں اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے امن وامان کی بحالی میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ پرامن اورمحب وطن ہیں لیکن پاکستان کے اندر امریکہ اور اس کی اتحادیوں کی جارحیت ماننے کو تیا رنہیں ہیں۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں سو سال سے بھی زائد عرصے سے رائج ایف سی آر کو ختم کرنے کا بھی خیرمقدم کیا اور مطالبہ کیا کے قبائلی علاقوں میں شرعی عدالتیں اور جرگہ سسٹم قائم کیئے جائیں۔

اسی طرح کا مطالبہ شمالی وزیرستان کے طالبان کی جانب سے بھی اتوار کو سامنے آیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے رہنما حافظ گل بہادر نے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے واضع کیا کہ صرف نظام شریعت ہی ان کے لیئے قابل قبول ہوگا۔

جلسے میں مسلح طالبان بھی موجود تھے

انہوں نے یہ بھی اعلان دوہرایا کہ ان کا گزشتہ دنوں قائم کی جانے والی تحریک طالبان پاکستان سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

ادھر باجوڑ ایجنسی میں امن وامان خراب کرنے اور لوگوں کو اغواء کرنے والے افراد کو مولانا فقیر محمد نے چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا کے وہ مغوی افراد کو رہا کر دیں ورنہ مقام معلوم ہونے پر ان کے خلاف لشکر کشی کی جائے گی۔

انہوں نے واضع کیا کہ امریکی وفود سے ملاقاتوں سے قبایلی عمائدین باز آ جائیں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

جلسے میں حفاظت کی خاطر صرف مختصر وقت کیلئے طالبان کو نقاب کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد ازاں تحریک طالبان کے ترجمان مولوئ عمر نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ تحریک طالبان پاکستان میں بامقصد مذاکرات کے بعد اپنی تمام سرگرمیاں ختم کریں گے لیکن جب تک افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادی موجود ہیں ان کے خلاف ’جہاد‘ جاری ر ہے گا۔ انہوں نے غیرملکی افواج کی افغانستان سے انخلاء کامطالبہ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی کی امریکی وفد سے ملاقات سے انکار کا خیر مقدم کیا لیکن بعد ازاں ان سے ملاقات پر ان کو کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ انہوں نے امریکیوں پر واضح کیا کہ قبائلی علاقوں میں بات چیت سے امن وامان کی بحالی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’طالبان کو مثبت ملاقاتوں پر اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ سازشوں اور امریکی حکومت کے مدد کرنے ہونے والی ملاقاتیں برداشت نہیں کرینگے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی ہیں اور پاکستان میں پائیدار امن وامان کیلئے ہر قسم کی تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے نئی حکومت سے تعاون کرنے کا اعادہ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد