’طالبان سے مفاہمت مشکل‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں آج کل قبائلی علاقوں کے شدت پسندوں اور حکومت کے درمیان امن معاہدے کا چرچا ہے۔ فریقین کا کہنا ہے کہ مذاکرات آخری مرحلے میں ہیں تاہم مبصرین کے خیال میں قبائلی علاقوں میں تربیتی کیمپوں کے خاتمے اور سرحد پار آمد و رفت جیسے پیچیدہ معاملات پر مفاہمت مشکل ثابت ہوسکتی ہے۔ اگرچہ حکومت اور قبائلی علاقوں کے طالبان کے درمیان مذاکرات کی تصدیق ہوچکی ہے اور فریقین کسی امن معاہدے کے قریب پہنچنے کا بھی دعوی کر رہے ہیں لیکن امریکہ اور بعض تجزیہ نگاروں کو خدشہ ہے کہ یہ بیل منڈھیر چڑھ نہیں پائے گی۔ اس ناامیدی کی کئی وجوہات بھی ہیں۔ ان میں سے ایک ماضی کے امن معاہدے ہیں جو حالات کو خراب ہونے سے نہیں روک سکے۔ امریکی حکام اسی خدشے کو جواز بنا کر ان مذاکرات کے بارے میں کوئی زیادہ گرمجوشی نہیں دکھا پا رہا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے گزشتہ روز واضح کیا کہ ان کی خواہش ہوگی کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں کوئی تعطل نہ آئے۔
ماضی کے معاہدوں کے علاوہ بعض دیگر کانٹے دار معاملات ایسے بھی ہیں جن پر اختلافات معاہدے کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان میں سرفہرست شدت پسندوں کی سرحد پار آمد رفت ہے۔ اس آمد و رفت کو روکنا پہلے بھی ناممکن رہا اور اب بھی ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں فوجی قیادت کی بریفنگ میں شریک حکمراں اتحادی جماعت جعمیت علماء اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئی حکومت طاقت کے زور پر اس غیرقانونی آمدو رفت روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ وہ کہتے ہیں کہ فوجی سربراہ کے ساتھ اس اجلاس میں یہ اتفاق رائے طے ہوا تھا کہ خطے میں قیام امن کے لیے وہ مذاکرات کی حمایت اور امریکہ کی بھی مدد کریں گے۔ ’لیکن اگر وہ طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو انہیں پاکستان سے حمایت نہیں مل سکے گی۔‘ مولانا فضل الرحمان کا موقف تھا کہ سرحد پار آمد و رفت روکی ہی نہیں جاسکتی۔ ’یہ جغرافیائی طور پر ممکن نہیں اور جب جنگجویانہ انداز میں لوگ ایسا خفیہ راستوں سے کریں گے تو پھر تو اور بھی انہیں روکنا ناممکن ہوجاتا ہے۔‘ مبصرین کے مطابق فریقین کے دعووں کے برعکس مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ البتہ قبائلی علاقوں کے سابق سیکرٹری سکیورٹی برگیڈئر ریٹائرڈ محمود شاہ کہتے ہیں شدت پسندوں کو اصولاً یہ آمد و رفت روکنا ہوگی۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں بین الاقوامی سرحدوں کے وجود میں آنے سے لوگ تقسیم ہوجاتے ہیں لیکن اگر قبائلی علاقوں میں ایسا گزشتہ ساٹھ برسوں میں نہیں ہو پایا تو اس کی وجہ وہاں کا قبائلی معاشرہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ایسے میں اس کی آڑ میں آنا جانا لگا رہے گا۔
اس کے علاوہ غیرملکیوں کو مبینہ پناہ دینے اور دیگر کئی متنازعہ معاملات بھی پائیدار امن کےلیے حل طلب ہوں گے۔ ان مشکل سوالات میں سے بعض کا ذکر محمود شاہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ طالبان رہنما بیت اللہ محسود کی جانب سے اپنی فورس کو تحلیل کرنا، غیرملکی مہمانوں کا کیا ہوگا، مقامی قبائلی کی قیادت تسلیم کرنا اور تربیتی کیمپس کی موجودگی میں اس کی تصدیق اور ان کے خاتمے کے لیے طریقہ کار، طاقت کا استعمال کیسے ہوگا، آیا فوج وہاں رکھی جاسکے گی جس کی انخلاء کا وہ مطالبہ کر رہے ہیں۔ نئی حکومت اور شدت پسند کی جانب سے اعتماد سازی کے لیے اقدامات تو سامنے آ رہے ہیں لیکن وہ مشکل مسائل سے کس طرح نمٹتے ہیں پائیدار امن کا انحصار اس پر ہوگا۔ فی الحال نئی حکومت اپنے گھر میں لڑائی جھگڑا ختم کرنے کی خواہاں ہے اگر کوئی سرحد پار جا کر لڑتا ہے تو لڑے انہیں اس سے سروکار نہیں۔ بقول حکومت یہ امریکی اور دیگر اتحادی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی انہیں افغانستان داخل نہ ہونے دیں۔ یہی پالیسی گیارہ ستمبر کے بعد بھی حکومت نے اپنائی تھی۔ طالبان کی مدد کے لیے ہزاروں پاکستانی افغانستان گئے اور پھر کبھی نہ لوٹے۔ اب اس نئی پالیسی کا کتنا برا اثر ہوگا یہ شاید جلد ہی واضح ہونا شروع ہوجائے۔ فی الحال فریقین کم از کم اس موضوع پر بات کرنا ضروری نہیں سمجھ رہے۔ | اسی بارے میں مولانا صوفی محمد کو رہا کردیا گیا21 April, 2008 | پاکستان ’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘20 April, 2008 | پاکستان ’پاکستانی حکومت یکطرفہ لچک نہ دکھائے‘21 April, 2008 | پاکستان فاٹا میں کارروائی: فیصلہ مؤخر 21 April, 2008 | پاکستان حکومت، صوفی محمد میں معاہدہ طے21 April, 2008 | پاکستان یواین اہلکاروں کا اغواءاور بازیابی21 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||