قبائلی علاقوں میں میزائل حملوں میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی تین قبائلی ایجنسیوں، باجوڑ ، جنوبی اور شمالی وزیرستان کوگزشتہ کئی سالوں سے ’بغیر پائلٹ کے طیاروں‘ سے داغے جانے والے میزائل حملوں کا تواتر کےساتھ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی آبادی اور طالبان نے ہمیشہ ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں تعینات امریکی افوج پر عائد کی ہے۔ سترہ جون دوہزار چار کو پہلی مرتبہ جنوبی وزیرستان میں مقامی طالبان کے پہلے کمانڈر نیک محمد وزیر کو’ گائیڈڈ میزائل‘ کا نشانہ بنا کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ اگرچہ حملے کی ذمہ داری پاکستانی فوج نے قبول کرلی تھی تاہم مقامی افراد اور طالبان کا دعویٰ ہے کہ حملہ سرحد پار سے کیا گیا تھا۔ اس حملے کے بعد آہستہ آہستہ قبائلی علاقوں میں طالبان کی قوت میں اضافہ ہونے لگا۔ اس واقعے کے بعد جنوبی ، شمالی وزیرستان اور باجوڑ میں تواتر کے ساتھ گائیڈڈ میزائل کے حملوں کا آغاز ہوگیا جو آج تک جاری ہے۔ ان تینوں قبائلی علاقوں کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں اور امریکہ الزام لگاتا رہا ہے کہ ان علاقوں میں القاعدہ کی قیادت مبینہ طور موجود ہے اور یہاں ہی سے طالبان جنگجؤ سرحد عبور کر کے افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے خلاف حملے کرتے آ رہے ہیں۔ القاعدہ یا طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کوگائیڈڈ میزائل کے حملے کا نشانہ بننے کے واقعات میں رواں سال کے دوران اضافہ ہوا ہے اور باجوڑ کے تازہ حملے کے علاوہ زیادہ تر حملوں میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں گھروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے نیک محمد وزیر پر میزائل حملےاور باجوڑ کے دینی مدرسے پر ہونے والی بمباری کے علاوہ کسی اور حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ اس سال ہونے والے حملوں کے متعلق تو حکومت پاکستان نےمکمل خاموشی اختیار کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ باجوڑ کےگزشتہ شب ہونے والے حملے کے بارے میں ابھی تک سرکاری طور پر کچھ کہنے سےگریز کیا جا رہا ہے۔ اپریل دوہزار آٹھ میں پہلی مرتبہ حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ قبائلی علاقوں میں اب تک کے بغیر پائلٹ طیاروں کے حملے امریکہ ہی کر رہا ہے۔ تاہم مسلح افواج کے تعلقات عامہ کے محکمے آئی ایس پی آر نےسرکاری طور پر اس بات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا تھا۔ اگرچہ امریکہ نے آج تک قبائلی علاقوں میں ہونے والے میزائل حملوں کی کوئی باقاعدہ ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ امریکی سٹراٹیجک کمان کے سربراہ جنرل کیون چلٹن نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے اشارتاً کہا تھا کہ سیٹلائٹس سے ملنے والی تصاویر کی مدد سےاتحادی افواج کو’طالبان کی دراندازی‘ روکنے میں کامیابی مل رہی ہے اور اس کام میں ڈرون طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کہ امریکہ کو سیٹلائٹس کے ذریعہ حاصل ہونے والی خفیہ معلومات سے عراق اور افغانستان میں جاری لڑائی میں بھرپور فائدہ ہو رہاہے۔ | اسی بارے میں کراچی کا ڈاکٹر وانا میں ہلاک23 March, 2008 | پاکستان وانا میزائل حملے میں اٹھارہ ہلاک16 March, 2008 | پاکستان وزیرستان حملہ، پاکستان کا احتجاج12 March, 2008 | پاکستان مکان پر میزائل حملہ، دس ہلاک28 February, 2008 | پاکستان گھر پر میزائل لگنے سے بارہ ہلاک29 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||